طیارے کا حادثہ، پائلٹ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش

تصویر کے کاپی رائٹ Kashif Zulfiqar

لاہور میں پولیس نے نجی فضائی کمپنی شاہین ایئر انٹرنیشنل کے طیارے کو پیش آنے والے حادثے پر پائلٹ کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ 7 کے تحت مقدمہ درج کر کے انھیں منگل کے روز انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں پیش کر دیا۔

’شاہین ایئر کا پائلٹ تھکا ہوا اور نشے کی حالت میں تھا‘

عدالت نے کیپٹن عصمت محمود کو سات روزہ جمسانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔

واضع رہے کہ گذشتہ ہفتے لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر شاہین ایئر انٹرنیشنل کے طیارے کو اترنے کے بعد حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں دس مسافر زخمی ہوئے اور طیارے کو نقصان پہنچا تھا۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی کے جاری کردہ بیان کے مطابق ابتدائی تفتیش اور طبی رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاہین ایئر کے پائلٹ عصمت محمود کے خون میں بڑی مقدار میں شراب پائی گئی جبکہ اس بات کے بھی اشارے ملے ہیں کہ پائلٹ شدید تھکن کا شکار تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Punjab Police
Image caption ابتدائی تفتیش اور طبی رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاہین ایئر کے پائلٹ عصمت محمود کے خون میں بڑی مقدار میں شراب پائی گئی

کیپٹن عصمت محمود کو پنجاب پولیس نے کراچی سے گرفتار کر کے لاہور سرکلر روڈ تھانے میں منتقل کر دیا جہاں ان کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درخواست دائر کی گئی تھی۔

عدالت میں کیپٹن عصمت کے وکیل حسن وڑائچ نے کہا کہ ان کے موکل کو بڑے ناموں کو محفوظ کرنے کی غرض سے پھنسایا جا رہا ہے۔

عدالت نے استغاثہ کو ہدایات دی ہیں کہ وہ اگلی سماعت میں ثبوت پیش کریں کہ شاہین ایئر کے طیارے کی لینڈنگ کے بعد حادثہ پائلٹ کی غلطی کی وجہ سے پیش آیا۔

لاہور کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں کیس کی اگلی سماعت 23 نومبر کو ہو گی۔

اسی بارے میں