لڑکی کا فیس بک اکاؤنٹ چلانے پر ضمانت کی درخواست مسترد

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے لڑکی کی اجازت کے بغیر فیس بک پر اس کا اکاؤنٹ استعمال کرنے اور لڑکی کی مرضی کے بغیر تصاویر لگانے کے الزام میں گرفتار ہونے والے ملزم کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی ہے۔

عدالت نے تفتیشی افسر کو دو ہفتوں میں اس مقدمے کا چالان ٹرائل کورٹ میں جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔

جسٹس امیر ہانی مسلم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پشاور کے رہائشی محمد منیر کی ضمانت کی درخواست کی سماعت کی۔

ملزم کے وکیل مسرور شاہ نے عدالت کو بتایا کہ اُن کے موکل نے فیس بک پر ’شگفتہ‘ کے نام سے اکاؤنٹ بوگس نہیں بنایا تھا بلکہ اصلی تھا اور اس کو استعمال کرنے میں اس میں لڑکی کی رضامندی بھی شامل تھی۔

بینچ کے سربراہ نے ملزم کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا یہ دونوں ایک دوسرے کو جانتے تھے جس پر ملزم کے وکیل کا کہنا تھا کہ وہ پشاور یونیورسٹی میں اکٹھے پڑھتے تھے اور وہ ایک دوسرے کو جانتے تھے۔

جسٹس امیر ہانی مسلم نے استفسار کیا کہ وہ اس رشتے کو کیا نام دیں گے جس پر ملزم کے وکیل کا کہنا تھا کہ مذکورہ لڑکی اس کے موکل کی گرل فرینڈ تھی جس پر بینچ کے سربراہ نے ملزم کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ وہ کسی یورپی ملک میں یہ مقدمہ نہیں لڑ رہے اس لیے الفاظ کا چناؤ صحیح طریقے سے کیا جائے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ فیس بک پر اس طرح کی حرکات نے ہمارے معاشرے اور بالخصوص نوجوان نسل کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔

پشاور کے ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کے ایک اہلکار کے بی بی سی کو بتایا کہ ملزم محمد منیر صوبہ خیبر پختون خوا کے شہر ہری پور کے ضلعی رابطہ افسر کے دفتر میں کمپیوٹر آپریٹر ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ شگفتہ نامی خاتون جو ایک نجی بینک میں ملازم ہیں نے ایک درخواست ایف آئی اے کو دی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ کوئی شخص اُن کی اجازت کے بغیر اُن کا اکاؤنٹ استعمال کر رہا ہے اور اس کی اجازت کے بغیر اس کی تصاویر فیس بک پر لگائی جارہی ہیں۔

اہلکار کے مطابق ایف آئی اے نے پاکستان ٹیلی کیمونیکیشن کی مدد سے ملزم کے دفتر میں چھاپہ مارکر محمد منیر کو فیس بک پر ’شگفتہ‘ کا اکاؤنٹ استعمال کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کرلیا۔

پشاور ہائی کورٹ نے ملزم کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی تھی جس کے بعد ملزم نے ضمانت کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ ٹرائل کورٹ چھ ماہ کے اندر اندر اس مقدمے کا فیصلہ کرے۔

اسی بارے میں