’دائی نے وہ حال کیا کہ آٹھ آپریشن کرنا پڑے‘

Image caption رضیہ کی نظر کمزور ہے اور مشکل ہی سے دیکھ پاتی ہیں

کچھ مہینے پہلے سوئٹزر لینڈ کے شہر جنیوا میں صحت پر ایک کانفرنس منعقد ہوئی۔ وہاں دنیا بھر سے آئے مندوبین کی توجہ کا خاص مرکز رحیم یار خان کے ایک گاؤں سے آئی ہوئی ایک پاکستانی خاتون رضیہ شمشاد تھیں۔

رضیہ شمشاد کو وہاں جس نشست میں حصہ لینا تھا اس کا دورانیہ 44 منٹ تھا لیکن گفتگو تین گھنٹے تک جاری رہی۔ رضیہ اپنے ساتھ آئے فسٹیولا کے ماہر ڈاکٹر سجاد صدیقی کے ذریعے اپنی آپ بیتی بیان کرتی گئیں اور سننے والے اپنے آنسو پونچھتے رہے۔

رضیہ کی نظر کمزور ہے اور مشکل ہی سے دیکھ پاتی ہیں۔ وہ کبھی سکول نہیں گئیں لیکن حافظِ قرآن ہیں۔ مشکل سے 16 یا 17 برس کی تھیں جب گھر والوں نے وٹے سٹے کے تحت ان کی شادی کروا دی۔ شوہر اچھا ملا لیکن جلد ہی ایک ٹریفک حادثے میں چل بسا۔ رضیہ اس وقت امید سے تھیں۔

حمل کے دوران اس کی کوئی خاص دیکھ بھال نہ ہو سکی۔ گھر میں ایک بوڑھا سُسر تھا اور وہ اکیلی عورت۔ جب بچے کی پیدائش کا وقت قریب آیا تو دور دور تک نہ کوئی ڈھنگ کا ڈاکٹر تھا نہ ہی کوئی تربیت یافتہ دائی۔ ایسے میں رضیہ محلے کی ایک دائی کے ہتھے چڑھ گئی۔

’دائی نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، اپنے ہی الٹے سیدھے نسخے آزمانے شروع کر دیے۔ اُس نے میرے ساتھ خوب کھینچا تانی کی۔ میں پانچ دن تک درد میں تڑپتی رہی لیکن میری کوئی امداد نہ ہوئی۔ آخرکار اس نے میرا مرا ہوا بچہ باہر نکالا اور اس کے ساتھ ہی میرا مسلسل پیشاب بہنا شروع ہو گیا۔‘

رضیہ کے لیے یہ سب دہری اذیت کا سبب تھا، لیکن دائی نے اسے تسلی دی کہ کبھی کبھی زچگی کے بعد عورت کا پانی بہتا ہے بعد میں سب ٹھیک ہو جائے گا۔ لیکن ایسا نہ ہوا بلکہ پیشاب کے ساتھ ساتھ پاخانہ بھی اسی راستے سے خارج ہونے لگا۔

’مجھ سے ہر وقت بدبو آنے لگی۔ کپڑے خراب اور گیلے رہنے لگے۔ ہمسایوں نے کہا آپ ناپاک ہو ہمارے گھر نہ آیا کرو۔ ہر کوئی دھتکارنے لگا۔ میں جیتے جی ایک زندہ لاش بن کر رہ گئی۔‘

کرب کی اس حالت میں کوئی دو سال گزر گئے لیکن رضیہ نے ہمت نہیں ہاری اور ایک دن وہ تن تنہا رحیم یار خان سے کراچی جانے والی ایک ریل گاڑی پر سوار ہو گئیں۔

’مجھے امید تھی کہ یہ بڑا شہر ہے اور یہاں ضرور کوئی نہ کوئی میری داد رسی کرے گا۔‘

Image caption مجھے اپنی اولاد کی امید نہیں تھی لیکن اس ننھی سی گڑیا کے آنے کے بعد میں اپنی زندگی کی ساری تکلیفیں بھول گئی ہوں: رضیہ شمشاد

کراچی میں وہ پہلے قطر ہسپتال گئیں جہاں انھیں بتایا گیا کہ آپ ڈاکٹر شیر شاہ سید سے ملیں جو برسوں سے اس مرض کی شکار عورتوں کا علاج کر رہے ہیں۔

’میں جب ڈاکٹر صاحب سے ملی اور ان کے کوہی گوٹھ ہسپتال پہنچی تو انھوں نے مجھے بڑا حوصلہ دیا اور کہا بیٹا آپ فکر نہ کرو یہاں ہم آپ کا مفت علاج کریں گے۔ اتنے عرصے میں یہ پہلی بار تھا کہ کسی نے مجھے امید دکھائی کہ میں ٹھیک ہو سکتی ہوں۔‘

ڈاکٹر سجاد صدیقی پاکستان میں اقوامِ متحدہ کے فسٹیولا کے خلاف پروگرام کے پروجیکٹ مینیجر ہیں۔

وہ کہتے ہیں: ’ہمارے یہاں خواتین سالہا سال اس تکلیف دہ مرض میں گزار دیتی ہیں، محض اس لیے کہ انھیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ایک چھوٹی سی سرجری سے ان کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔‘

وہ مزید کہتے ہیں: ’پسماندہ علاقوں میں رہنے والوں کو چھوڑیں، ہمارے یہاں تو اکثر ڈاکٹروں کو پتہ نہیں ہوتا کہ فسٹیولا کیا ہے۔‘

ان کے مطابق ’اس کا شکار صرف غریب اور پسماندہ طبقے کی خواتین ہوتی ہیں جن کے پاس تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولتوں کا فقدان ہوتا ہے۔ ان کے پاس ڈاکٹروں کی بڑی بڑی فیس دینے اور ان تک پہنچنے کی سکت ہوتی ہے اور نہ ہی ڈاکٹر ان کے تکلیف دہ مرض میں دلچسی رکھتے ہیں۔‘

نتیجہ یہ کہ بقول ڈاکٹر سجاد، پاکستان میں ہر سال فسٹیولا کی شکار آٹھ سے دس ہزار عوتوں کے لیے ملک میں محض 53 ڈاکٹر ہیں جو اس آپریشن میں مہارت رکھتے ہیں۔

لیکن تمام مہارت کے باوجود کوہی گوٹھ کے ڈاکٹروں کے لیے رضیہ کا مرض خاصا پیچیدہ ثابت ہوا۔

وہ بتاتی ہیں: ’دائی نے میرا ایسا ستیاناس کر دیا تھا کہ یہاں ڈاکٹروں کو میرے کوئی سات آٹھ آپریشن کرنے پڑے۔ تب کہیں جا کر میرا مسئلہ کسی حد تک حل ہو سکا۔‘

اسی دوران جان پہچان والے ایک شخص نے رضیہ کو شادی کی پیشکش کی جو انھوں نے قبول کر لی۔ جب ڈاکٹروں نے ان پر واضح کیا کہ وہ کبھی ماں نہیں بن سکیں گی تو انھیں نے رشتہ داروں کی ایک بچی گود لے لی۔

لیکن قدرت کا کرنا کچھ ایسا ہوا کہ اسی سال رضیہ کو دوبارہ حمل ہو گیا اور اس بار انھوں نے اپنے ڈاکٹروں کی مدد سے ایک بچی کو جنم دیا۔

ماہرین کہتے ہیں کہ فسٹیولا کی مریض اکثر عورتیں آپریشن کے بعد صحت یاب ہو کر معمول کی زندگی گزارتی ہیں اور بچے بھی پیدا کرتی ہیں، لیکن رضیہ کا کیس اتنا بگڑا ہوا تھا کہ اس کا دوبارہ ماں بن جانا کسی معجزے سے کم نہیں۔

آج رضیہ اپنی زندگی سے خوش ہیں، کہتی ہیں: ’مجھے اپنی اولاد کی امید نہیں تھی لیکن اس ننھی سی گڑیا کے آنے کے بعد میں اپنی زندگی کی ساری تکلیفیں بھول گئی ہوں۔‘

ان کی یہ بچی اُنھی کی طرح پیدائشی طور پر دیکھ نہیں سکتی لیکن رضیہ کے نزدیک جو فسٹیولا سے گزر چکا ہو اس کے لیے نابینا پن کوئی معذوری نہیں۔

ان کا پورا ارادہ ہے کہ وہ اپنی بچی کو نابیناؤں کے سکول میں تعلیم دلوائیں گی تاکہ وہ بڑی ہو کر باہمت عورت بن سکے اور اسے وہ تکلیفیں نہ ملیں جو ان کے حصے میں آئیں۔

اسی بارے میں