قانونی راستہ کھول کر غیر قانونی راستہ بند کرنے کا منصوبہ

Image caption پاکستان اور یورپ کے درمیان تارکین وطن کی واپسی اور بحالی کے لیے کسی نئے معاہدے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ موجودہ طریقہ کار میں بہتری کے ذریعے ہی حالات کو بہتر بنایا جا سکتا ہے: تارکینِ وطن کے لیے یورپی ممالک کے کمشنر دمتری آورامو پُولس

تارکینِ وطن کے لیے یورپی ممالک کے کمشنر دمتری آورامو پُولس نے کہا ہے کہ یورپ میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کا وہاں آنے والے تارکین وطن کے ساتھ تعلق نہیں ہے اور آئندہ پانچ ماہ میں وہاں تارکینِ وطن کی آبادکاری کے لیے جامع تجویز پیش کی جائے گی۔

’تارکینِ وطن کی واپسی کے لیے پاکستان جاؤں گا‘

خیال رہے کہ پاکستان نے رواں ماہ کے آغاز میں غیر قانونی طور پر جانے والے پاکستانیوں کو وطن واپس بھیجنے سے متعلق یورپی یونین سے کیے گئے معاہدے کو یہ کہتے ہوئے معطل کر دیا تھا کہ یورپی ممالک ایسے افراد پر دہشت گردی کا الزام لگا کر اُنھیں واپس بھیج رہے ہیں۔

پاکستانی حکام کے ساتھ تارکین وطن کی واپسی کے بارے میں مذاکرات کے بعد بی بی سی کے ساتھ گفتگو میں یورپی کمشنر نے کہا کہ یورپ تارکین وطن کو یورپ میں آباد کرنے کے لیے ایک جامع پالیسی بنا رہا ہے۔

دمتری آورامو پُولس سوموار کے روز پاکستان پہنچے تھے جہاں انھوں نے چند گھنٹے ہی گزارے اور پاکستانی وزیر داخلہ چوہدری نثار کے ساتھ پاکستانی تارکین وطن کی واپسی کے لیے نئے طریقہ کار پر اتفاق کیا۔

اس ملاقات کے بعد بی بی سی کے ساتھ گفتگو میں دمتری آوراموپولس نے کہا کہ غیر قانونی طریقے سے یورپ جانے کی حوصلہ شکنی کے لیے تارکین وطن کی آبادکاری کا نیا منصوبہ بہت جلد یورپی پارلیمنٹ کے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔

Image caption یورپی کمشنر نے اس پاکستانی تجویز سے بھی اتفاق کیا کہ آئندہ جو بھی پاکستانی یورپ سے بے دخل کیے جائیں گے انھیں ایک باضابطہ طریقہ کار کے تحت پاکستان لانے کا بندوبست کیا جائے گا

’بہت جلد، یعنی آئندہ پانچ ماہ کے دوران ہم یورپی پارلیمنٹ میں قانونی طریقے سے یورپ میں آبادکاری کے لیے ایک جامع تجویز پیش کریں گے۔ تاکہ وہ لوگ جو یورپ آنا چاہتے ہیں وہ قانونی راستہ استعمال کریں۔ یورپ ایک زبردست جگہ ہے اور آنے والی دہائیوں میں ہمیں یہاں غیر ملکی تارکین وطن کی ضرورت ہو گی۔ لیکن وہ لوگ جو یورپ میں رہنا چاہتے ہیں انھیں صرف قانونی طریقہ ہی استعمال کرنا ہو گا۔‘

یورپی کمشنر کا کہنا تھا کہ یورپ میں حالیہ پر تشدد واقعات کا وہاں موجود تارکین وطن کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اور یورپی رہنماؤں کو ایسے تعلقات تلاش کرنے کی کوشش بھی نہیں کرنی چاہیے۔

’بہتر یہی ہے کہ مہاجرین اور دہشت گردوں کے درمیان تعلق تلاش نہ کیا جائے۔ وہ لوگ جنھوں نے یہ حملے کیے وہ زیادہ تر مقامی یعنی یورپی تھے۔ ان میں سے کچھ تو مسلمان نژاد بھی نہیں تھے۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ یہ تعلق نہ جوڑا جائے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یورپ میں پر خطر سمندری راستے سے غیر قانونی طور پر داخل ہونے والوں میں پاکستانی بھی شامل ہیں

یورپی کمشنر نے تمام یورپی ممالک کے لیے ایک ویزے کے نظام کو تبدیل کرنے کی مخالفت کرتے کہا کہ شینگن نظام مسئلہ نہیں بلکہ اس کا حل ہے۔

’شینگن مسئلہ نہیں ہے بلکہ اگر اس کا درست استعمال کیا جائے تو یہ مسئلے کا حل ہے۔ ہمیں ہر حال میں شینگن کا دفاع کرنا ہے۔ یہ نظام یورپی اتحاد کی سب سے اہم کامیابی ہے۔ ایک متحد اور آزاد فضا میں رہنا کئی نسلوں کا خواب تھا۔‘

یورپی کمشنر نے اس پاکستانی تجویز سے بھی اتفاق کیا کہ آئندہ جو بھی پاکستانی یورپ سے بے دخل کیے جائیں گے انھیں ایک باضابطہ طریقہ کار کے تحت پاکستان لانے کا بندوبست کیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان اور یورپ کے درمیان تارکین وطن کی واپسی اور بحالی کے لیے کسی نئے معاہدے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ موجودہ طریقہ کار میں بہتری کے ذریعے ہی حالات کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ یورپ میں چار لاکھ پاکستانی رہتے ہیں اور وہ سب لوگ اپنے اپنے شعبوں میں بہترین ہیں۔

’ہمیں بہت سے ایسے لوگوں کی ضرورت ہے لیکن یہ استحقاق صرف انہی کو حاصل ہو گا جو قانونی طریقے سے یورپ میں داخل ہوں گے۔‘

اسی بارے میں