جہلم میں فیکٹری جلانے پر’موذن سمیت درجنوں گرفتار‘

Image caption آگ لگنے سے فیکٹری کا 70 فیصد سے زائد حصہ جل کر تباہ ہوگیا تھا

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر جہلم میں پولیس کے مطابق توہینِ مذہب کے مبینہ الزام کے بعد کارخانہ نذرِ آتش کیے جانے کے معاملے میں 40 سے زیادہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

یہ واقعہ گذشتہ جمعے کو پیش آیا تھا جب مشتعل ہجوم نے اقلیتی احمدی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کی ملکیتی چپ بورڈ بنانے والی فیکٹری پر دھاوا بول کر توڑ پھوڑ کی تھی اور پھر عمارت کو نذرِ آتش کر دیا تھا۔

جہلم میں توہینِ مذہب کا الزام کے بعد کشیدگی

آگ لگنے سے فیکٹری کا 70 فیصد سے زائد حصہ جل کر تباہ ہوگیا تھا جبکہ فیکٹری کے احاطے میں موجود متعدد گاڑیاں بھی تباہ ہوگئی تھیں۔

حالات کشیدہ ہونے کے بعد وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے شہر میں امن و امان قائم کرنے کے لیے فوج کو صوبائی حکومت کے مدد کرنے کا حکم دیا تھا۔

جہلم پولیس نے اس معاملے میں مشتعل ہجوم کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا اور اس سلسلے میں کارروائی کرتے ہوئے 45 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

ان افراد کی گرفتاری جہلم کے قریبی علاقوں کالا گجراں اور دینہ سے عمل میں لائی گئی ہے اور پولیس حکام کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں دو مساجد کے موذن بھی شامل ہیں۔

مقامی پولیس کے مطابق ان افراد کو جائے وقوعہ کی ٹی وی چینلز اور سی ٹی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے گرفتار کیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق حراست میں لیے جانے والے افراد میں سے 30 سے زیادہ افراد براہِ راست اس واقعے میں ملوث ہیں اور ان افراد کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

وزیر اعلی میاں شہباز شریف نے جہلم کے واقعہ کے حقائق جاننے کے لیے صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی قائم کی ہے۔

اس کمیٹی نے جائے حادثہ کا دورہ بھی کیا ہے اور جلد ہی اس بارے میں رپورٹ وزیر اعلی کو پیش کی جائے گی۔

اسی بارے میں