جب بارش نے باسط کی پھانسی ملتوی کروائی

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption عبدالباسط کی مشکلات اس وقت پیدا ہوئی جب انھوں نے شادی کی اور پھر دوسری خاتون کے عشق میں گرفتار ہو گئے

پاکستانی جیل میں قتل کے جرم میں سزائے قید کے منتظر معذور قیدی عبدالباسط کی سزا پر عملدرآمد کو ایک مرتبہ پھر موخر کر دیا گیا ہے۔ عبدالباسط کے لیے مہم چلانے والوں کا کہنا ہے کہ اُن کی پھانسی پاکستانی قوانین کی توہین اور خلاف ورزی ہے۔ بی بی سی کے محمد الیاس خان نے عبدالباسط کی بکھری ہوئی کہانی کو یکجا کیا ہے۔

ستمبر کی ایک شام سلاخوں کے پیچھے لیٹے عبدالباسط نے بتایا تھا کہ اہلیہ اور والدہ سے آخری ملاقات ہوگئی ہے اور اپنی وصیت بھی جیل کے حکام کے حوالے کر دی ہے۔

عبدالباسط کی سزائے موت پر عملدرآمد ملتوی

22 ستمبر کو اُنھیں پھانسی دینے سے قبل سیاہ رنگ کا مخصوص پاجامہ سوٹ پہنایاگیا اور اُن کی وھیل چیئر کو تختہ دار کی جانب لے جایا گیا۔

لیکن ابھی نصف فاصلہ ہی طے ہوا تھا کہ اچانک جیل کے محافظ تیزی سے آئے اور حکام کو آگاہ کیا کہ اُنھیں بارش رُکنے تک انتظار کرنا ہوگا۔

وہ تمام لوگ دھات سے تیار کردہ ایک شیڈ کے نیچے انتظار کرنے لگے۔ تیز بارش کے باعث شیڈ کی چھت کھڑکھڑا رہی تھی اور تھوڑی دیر میں بارش ہلکی ہوگئی اور کچھ دیر بعد بند ہوگئی۔

اُس روز ایسا کئی بار ہوا لیکن اُنھیں اپنے کام مکمل کرنے کے لیے کوئی احکامات نہیں دیے گئے۔ آخر کار حکم آیا کہ پھانسی ملتوی کردی گئی ہے۔

وھیل چیئر پر بیٹھے عبدالباسط تقریباً دو گھنٹے تک اپنی موت سے ملنے کا انتظار کرتے رہے۔ اُن کے ہاتھ اور کلائیاں کرسی کے پشت سے بندھی ہوئی تھیں۔

اُس وقت اُن کے دماغ میں کیا چل رہا تھا؟

عبدالباسط کا مقدمہ لڑنے والی اور جسٹس پروجیکٹ پاکستان کے ساتھ منسلک وکیل زینب محبوب کا کہنا ہے کہ وہ اُس طرح کا شخص نہیں ہے جو اپنے جذبات کے بارے میں بات کرے۔

میرا خیال ہے کہ وہ اپنے ماضی کے بارے میں بات کرنے سے کہ اُس وقت کیا ہوا تھا، تھوڑا گھبراتے ہیں۔

Image caption باسط نے پہلے نوشین سے شادی کی پھر صدف کے عشق میں گرفتار ہو گئے

گولی مارنا

ان کے ذہن میں بہت کچھ چل رہا ہوگا۔

درمیانی درجے کے پولیس افسر کے بیٹے نے اپنے والد کی وفات کے بعد خاندان کو سہارا دینے کے لیے اپنے کالج کو خیرباد کہہ دیا۔

سنہ 2003 میں جب وہ اپنے آبائی شہر فیصل آباد کے میڈیکل کالج میں ملازمت کرتے تھے تو اُسی دوران اُن کو انگریزی ادب کی طالبہ مسرت نوشین سے محبت ہوگئی اور دونوں اُسی سال رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئے۔

سنہ 2007 کے آخر میں حالات اُس وقت خراب ہوئے جب وہ جس میڈیکل کالج میں کام کرتے تھے وہیں پڑھنے والی ایک لڑکی کے عشق میں گرفتار ہوئے اور اُس کے ساتھ گھر بسانے کا فیصلہ کر لیا۔ صدف شہزاد نامی اس خاتون کا تعلق اوکاڑہ کے وکلا کے خاندان سے تھا۔

اِس دوارن نوشین ناراض ہو کر اپنے بچوں سمیت عبدالباسط کو چھوڑ کر اپنی والدہ کے ساتھ رہنے لگیں۔

نوشین کا کہنا ہے کہ جب صدف کے خاندان کو اُن دونوں کے رشتے کے بارے میں پتا چلا تو صدف کے انکل جو کہ قانون کے طالب علم بھی ہیں اُنھوں نے باسط سے رابطہ کیا اور دونوں کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔

نوشین کے مطابق حالات اُس وقت بہت خراب ہوگئے جب اُن کا بیٹا لاپتہ ہوگیا اور گھبراہٹ میں باسط نے پولیس میں رپورٹ کردی کے اُن کے بیٹے کو صدف کے انکل نے اغوا کیا ہے۔ بچہ اگلے روز مل گیا تھا۔

تاہم بعد میں صدف کا خاندان شادی کے لیے راضی ہو گیا۔ نوشین کا کہنا ہے ’اپنے بچوں کے بہتر مفاد کے لیے‘ اُنھوں نے باسط کو معاف کرنے فیصلہ کرلیا اور اُن کے ساتھ معاملہ حل کرنے لیے اوکاڑہ میں صدف کے گھر گئیں۔

Image caption اوکاڑہ قتل کے معاملے میں ایک اخبار کی رپورٹ

نوشین کا کہنا ہے کہ صدف کے انکل نے خاندان کی عزت یا غیرت کی وجہ سے باسط پر حملہ کردیا اور باسط جو اپنی حفاظت کے لیے ہمیشہ اپنے ہمراہ بندوق لے کر چلتے تھے، اُنھوں نے صدف کے انکل پر گولی چلا دی اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گئے۔’

مقدمہ سے پتا چلتا ہے کہ صدف کے خاندان کا موقف بالکل مختلف تھا۔

اُنھوں نے کہا کہ باسط نے کالج میں داخلے کے لیے صدف سے رشوت طلب کی جو کہ اُن دونوں کے درمیان جھگڑے کا باعث بنی۔ جب اغوا کا الزام ’غلط‘ ثابت ہوا تو اپنے دو مرد ساتھیوں کے ہمراہ صدف کے انکل کو قتل کرنے کے لیے اوکاڑہ آیا۔

اُن کا کہنا ہے کہ خاندان والوں نے باسط کو پکڑ لیا لیکن دیگر دو افراد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ اُنھیں کبھی گرفتار نہیں کیا گیا اور نہ ہی اُن کے بارے میں کبھی دوبارہ سنا گیا۔

جیل میں فساد

عدالت نے فیصلہ دیا کہ چشم دید گواہوں اور طبی ثبوت صدف کے خاندان کے موقف کو ثابت کرتے ہیں اور ثابت ہوتا ہے کہ یہ ایک دانستہ قتل ہے۔ اِس کے لیے اُنھیں موت کی سزا سنائی گئی۔

نوشین کی گواہی سے قتل ’اچانک غصے‘ کا باعث قرار دیا جا سکتا تھا اور اِس سے کم سے کم سزا ملتی لیکن قانونی پیچیدگیوں کے باعث اُن کو ناقابل اعتماد گواہ تصور کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ retrieve
Image caption عبدالباسط جیل میں مفلوج ہو گئے

باسط کی سزا پر اب تک عمل درآمد نہ ہونے کی بڑی وجہ ان کی معذوری ہے اور اگر وہ اپنی مدد آپ کے تحت کھڑے ہو سکتے تو وہ اب تک موت کو گلے لگا چکے ہوتے۔

وہ اِس لیے بچ گئے کیونکہ سنہ 2010 جنوری میں جیل میں ہونے والے فسادات کا نشانہ بن گئے تھے۔

قیدیوں اور جیل کے محافظوں کے درمیان ایک ہفتے سے زیادہ چلنے والے تصادم کے دوران باسط ٹی بی کی بیماری کے باعث ایک ہفتے تک اپنے قید خانے میں پڑے رہے اور اُنھیں کسی نے پوچھا تک نہیں اور اُن کا کمر سے نیچے کا جسم مفلوج ہوگیا تھا۔

پاکستان میں جیل کے قوانین کے مطابق گردن کو دھڑ سے الگ کیے بغیر فوری طور پر موت کو یقینی بنانے کے لیے مخصوص اقدامات کیے جاتے ہیں جیسے کہ ناک کی لمبائی اور پھندے کی لمبائی لی جاتی ہے۔ پہلے ہی اِس بات پر یقین کر لیا جاتا ہے کہ مجرم تختۂ دار پر اپنے پیروں پر کھڑا ہوسکتا ہے۔

21 ستمبر، سزائے موت پر عمل درآمد کا حکم نامہ جاری ہونے کے ایک روز بعد جے پی پی کے وکلا نے پھانسی کے لیے طبی طور پر نا اہل ہونے کے باعث سزا ختم کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی لیکن عدالت کے حکم نامے میں اُمید کی کرن نظر آئی جس میں جیل حکام کو ’متعلقہ قوانین کے ساتھ عمل‘کرنے ہدایت تھی۔

زینب محبوب نے بتایا کہ اُسی شام جے پی پی کی ٹیم جیل کے حکام سے قوانین پر بات کرنے کے لیے فیصل آباد پہنچی۔

جیل حکام کے ساتھ طویل گفتگو ہوئی جس میں اُن کو یہ بتانے کی کوشش کی گئی کہ اگر مجرم اپنے پیروں پر کھڑا نہیں ہو سکتا ہے تو ’یہ توہین عدالت ہوگی۔‘

اُنھیں باسط کو پھانسی گھاٹ لے جانے سے صرف دس منٹ قبل صبح پانچ بج کر بیس منٹ پر جیل سے جانے کے لیے کہا گیا۔

Image caption وکیل زینب کا کہنا ہے کہ وکیلوں نے جیل حکام سے پھانسی کی تفصیلات پر دیر تک بات کی

خدا کے قریب

باسط نے کچھ روز بعد زینب کو بتایا کہ جیل کے حکام نے پھانسی کے لیے تیار کرنے میں کوئی جلدی نہیں دکھائی۔

’وہ اُس کڑے وقت سے قبل ہی تیار ہو کر دعا کر رہے تھے لیکن حکام نے اُن کو تقریباً 5:30 بجے تک پھانسی کے کپڑے نہیں دیے تو اُنھوں نے خود سے کپڑوں کے لیے کہا کیونکہ اُن کو دیر ہورہی تھی۔‘

جیل کے محافظ نے اپنے اس دوست کا حوالے دیتے ہوئے جو اُس روز باسط کے ساتھ تھا، بتایا کہ اُنھوں نے باسط کو سہارا دینے کے لیے لکڑی کا سٹول تیار کیا تھا تاکہ وہ نیم یعنی آدھے کھڑے ہونے کی حالت میں ہو جو کہ پھانسی کے وقت اُن کی مدد کے لیے تھا لیکن اُس کے بعد اُنھوں نے فیصلہ کیا کہ یہ کام نہیں کر سکتا۔

اُنھوں نے کہا کہ شیڈ کے نیچے تقریباً دو گھنٹے انتظار کر رہے تھے تو اُنھوں نے حکام سے متعدد بار سوال کیا کہ بارش تھمتی ہے تو وہ اُنھیں پھانسی کے لیے کیوں نہیں لے جاتے ہیں۔

ایک ہفتے بعد جب اُن کی اہلیہ اور والدہ ملاقات کے لیے جیل آئیں تو اُنھوں نے دونوں کو بازؤں اور کلائیوں پر رسی سے باندھنے کے نشانات دکھائے۔

اُن کی اہلیہ کو اُمید ہے کہ جیسے پھانسی کے پھندے سے باسط کے بچ نکلنے میں مدد کی ہے خدا کے پاس ’اُن کے لیے طویل مدتی منصوبہ ہے۔‘

’وہ پہلے ایسے نہیں تھے۔ وہ دنیا دار تھے، مادہ پرست شخص لیکن اب وہ خدا کے قریب ہوگئے ہیں۔‘

اور اُنھوں نے نوشین کے سامنے اعتراف کیا کہ وہ نوشین کے ساتھ مخلص نہیں تھے۔

’شاید اُنھیں اپنی باقی زندگی ایک معذور شخص کے طور پر گزارنی پڑ سکتی ہے۔ لیکن وہ دیکھ سکتے ہیں، سوچ سکتے ہیں اور وہ مداخلت کرسکتے ہیں اور سہارا بن سکتے ہیں۔ وہ اپنے بچوں کے والد بن سکتے ہیں۔‘

اسی بارے میں