چترال کے علاقے بروغل میں شدید برفباری، خوراک کی قلت

Image caption چترال کے علاقے بروغل میں برفباری سے معمولاتِ زندگی متاثر ہیں

خیبر پختونخوا کے ضلع چترال کے دور افتادہ گاؤں بروغل میں تین سے چار فٹ تک برف پڑنے کے بعد اب علاقے میں خوراک کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے جبکہ مقامی لوگوں کے مطابق شدید سردی سے دو بچے ہلاک ہو گئے ہیں۔

بروغل گاؤں سطح سمندر سے تقریباً 12 ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔

بروغل تک جانے والے راستے اگست میں آنے والے سیلاب اور شدید زلزلے کی وجہ سے بند رہے اور ان بالائی علاقوں کی جانب مزید برف باری ہوئی تو یہ راستے اگلے چند ماہ تک پھر بند رہیں گے۔

بروغل سے سات آٹھ افراد پانچ روز تک سفر کرنے کے بعد گذشتہ روز چترال پہنچے جہاں انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے علاقے میں خوراک کی شدید قلت ہے۔ اور اگر اب انھیں آٹا اور ادویات نہ پہنچائی گئیں تو حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں۔

بروغل کے رہائشی عمر رفیع کے مطابق ان کا علاقہ چترال سے 250 کلو میٹر دور پاک افغان سرحد پر واخان کے قریب واقع ہے اور نومبر کے مہینے میں شدید برف باری ہوئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان کے گاؤں میں ڈھائی سو سے تین سو گھرانے آباد ہیں اور بیشتر مکان چادروں سے بنے ہوئے ہیں ۔ حالیہ زلزلے سے ان کے علاقے میں کوئی بڑا نقصان تو نہیں ہوا لیکن مکانات کی حالت انتہائی مخدوش ہو چکی ہے اب اگر برف زیادہ پڑی تو ان کے مکانات کو نقصان پہنچ سکتا ہے ۔

Image caption رواں سال اگست میں سیلاب اور حالیہ زلزلے سے بروغل میں مکانات کو نقصان پہنچا

ان لوگوں کا کہنا تھا کہ شدید سردی کی وجہ سے دو بچے ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ بڑی تعداد میں بچے بیمار ہیں۔

بروغل کے نمائندہ افراد نے ذرائع ابلاغ کے علاوہ ڈپٹی کمشنر چترال ، کمانڈنٹ ایف سی اور دیگر غیر سرکاری تنظیموں کے عہدیداروں سے بھی ملاقاتیں کی ہیں اور انھیں کہا ہے کہ ان کی فوری طور پر مدد کی جائے۔

عمر رفیع نے کہا کہ سرکاری سطح پر کچھ گندم فراہم کی گئی ہے لیکن برف باری کی وجہ سے علاقے میں پن چکیاں کام نہیں کر رہیں اس لیے لوگ روکھی روٹی کو بھی ترس رہے ہیں۔

عمر رفیع کے مطابق آئندہ مہینوں میں زیادہ برف پڑ سکتی ہے ۔ بروغل اور اس کے قریبی علاقوں میں دس سال کے بعد اتنی شدید برف پڑی ہے جبکہ اس سے پہلے 70 کی دہائی میں بھی علاقے میں شدید برف باری ہوئی تھی۔

بروغل اپر چترال میں واقع ہے اور مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ افغانستان کا علاقے واخان صرف تین گھنٹوں کی مسافت پر ہے اور اگر حکومت پاکستان نے ان کی مدد نہ کی تو وہ افغانستان نقل مکانی کر لیں گے۔

اسی بارے میں