کامن سنس کی منافقانہ راکٹ سائنس

جب امریکی دفترِ خارجہ انسانی حقوق کی زبوں حالی پر سالانہ عالمی رپورٹ جاری کرتا ہے تو ہر رپورٹ میں تواتر سے ان ممالک اور آمریتوں کا ذکر ہوتا ہے جو تب سے امریکی اتحادی ہیں جب سے دفترِ خارجہ انسانی حقوق کی رپورٹ جاری کر رہا ہے۔اس رپورٹ میں سوائے امریکہ ہر ملک کا ذکر ہوتا ہے۔

اس سال ستمبر میں سعودی عرب اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے پانچ رکنی پینل آف ایکسپرٹس کا سربراہ منتخب ہوگیا۔

یہ پینل مختلف ممالک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر نظر رکھنے والے مبصرین کے انتخاب میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

سعودی حمایت میں ووٹ دینے والوں میں برطانیہ بھی شامل تھا۔پانچ رکنی پینل آف ایکسپرٹس جو اپنی اہمیت کے اعتبار سے انسانی حقوق کونسل کا تاج کہلاتا ہے اس کے دیگر ارکان وینزویلا، قطر، روس اور چین ہیں۔( سب کہو سبحان اللہ ) ۔

پاکستانی دفترِ خارجہ نے بنگلہ دیش میں جماعتِ اسلامی کے دو رہنماؤں کی پھانسی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان پر مقدمہ چلاتے ہوئے انصاف کے بنیادی تقاضوں کا خیال نہیں رکھا گیا اور اپریل 1974 میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے مابین جنگی جرائم کے ملزموں پر مقدمہ چلانے کی بابت جو سمجھوتہ ہوا پھانسی کے حالیہ فیصلے اس سمجھوتے کی روح کے منافی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اس پر تبصرہ کرتے ہوئے انسانی حقوق کی سرکردہ کارکن عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ دفترِ خارجہ کو ایسا تبصرہ کرنے سے پہلے یہ بھی سوچنا چاہیے تھا کہ پاکستان میں پچھلے 11 ماہ میں تین سو کے لگ بھگ افراد کو پھانسی دی جا چکی ہے ان میں خصوصی فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے مجرم بھی شامل ہیں اور جو مجرم پھانسی کا انتظار کر رہے ہیں ان میں ایک معذور بھی ہے اور ایسا بیان تب کیوں سامنے نہیں آتا جب سعودی عرب میں کسی پاکستانی کا سر قلم ہوتا ہے۔

اس پر دائیں بازو کے اخبارات اور سوشل میڈیا میں ’اسلام دشمن، پاکستان دشمن، مغرب کی ایجنٹ‘ عاصمہ جہانگیر کے خلاف ایک طوفان کھڑا ہوگیا۔

عامر خان نے بس اتنا ہی تو کہا ہے کہ بھارت میں عدم رواداری اور عدم برداشت اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ ان کی بیوی کرن راؤ (ہندو) نے ان سے پوچھا کہ کیا اب یہاں بچوں کے مستقبل کے لیے رہنا ٹھیک ہے؟

اس کے ردِ عمل میں عامر خان کے گھر کے باہر شیو سینا کا احتجاجی مظاہرہ ہوا۔ ایک بیان میں عامر خان کو سانپ قرار دیا گیا۔ عامر خان کے پوسٹروں پر کالک مل کے جوتے مارے گئے۔ انھیں پاکستان چلے جانے کا مشورہ دیا گیا۔ یوں ثابت کر دیا گیا کہ بھارت میں ان دنوں کس قدر رواداری ہے اور عامر خان کتنے غلط ہیں۔

جب راشٹریہ سیوک سنگھ یا اس کی ذیلی تنظیمیں پاکستان میں غیر مسلم اقلیتوں کی حالتِ زار پر دکھ کا اظہار کرتی ہیں اور جب پاکستان کی مذہبی و سیاسی جماعتیں بھارتی مسلمانوں پر ہونے والے ’مظالم‘ پر چیخ پڑتی ہیں تو دونوں ممالک کو خوردبین تلے رکھنے والوں کو بس مزہ ہی تو آ جاتا ہے ۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

صحابی حضرت جابر بن عبداللہ نے یہ حدیث روایت کی ہے کہ پیاز ، لہسن یا دیگر ناگوار بو والے پودے اور جڑیں کھاتے ہوئے مسجد میں داخل مت ہو۔جو شے ابنِ آدم کو ناگوار محسوس ہوتی ہو فرشتے بھی اس سے تنگ ہوتے ہیں (صحیح مسلم)۔

حضرت علی کا قول ہے کہ جب تم دوسرے پر انگشت نمائی کرو تو یہ بھی دیکھ لو کہ اسی ہاتھ کی تین انگلیاں تمہاری جانب تو اشارہ نہیں کر رہیں۔

انیسویں صدی کے سرکردہ ہندو مصلح رام کرشنا پرساہ ا کے پاس ایک عورت اپنے بچے کو لائی کہ یہ بے تحاشا گڑ کھانے کی عادت میں مبتلا ہے آپ ہی سمجھائیں میری تو ایک نہیں سنتا۔ شری پرساہا نے کہا دو ہفتے بعد اس بچے کو لانا ۔دو ہفتے بعد جب بچہ آیا تو شری پرساہا نے اس کے سر پے ہاتھ رکھ کے کہا بیٹا بے تحاشا گڑ کھانے سے تمہاری صحت برباد ہو سکتی ہے لہذا ماں کا کہا مانو اور یہ عادت ترک کر دو ۔

عورت نے کہا گرو جی یہ بات تو آپ پہلے دن بھی سمجھا سکتے تھے دو ہفتے کیوں انتظار کرایا۔ شری پرساہا نے کہا کہ اس وقت تک میں بھی گڑ بہت شوق سے کھاتا تھا۔مجھے اس عادت کو ترک کرنے میں 14 دن لگے ۔اسی لیے تمہیں آج بلوایا تاکہ میری نصیحت میں تھوڑی بہت تاثیر پیدا ہوجائے۔ وما علینا البلاغ ۔۔۔

اسی بارے میں