بلاول کا دہشتگردی ختم کرنے کا عزم

بلاول بھٹو: فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بلاول بھٹو نے اپنے خطاب میں اپنے والد آصف علی زرداری کا انداز اپنایا

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وہ ظلم اور دہشت گردی کے خلاف ہیں اور آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ان کی جدوجہد جاری رہےگی۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ دہشت گردی چاہے مذہب کے نام پر ہو، فرقے یا زبان کے نام پر، پاکستان پیپلز پارٹی کا ایک ہی موقف ہے کہ دہشت گردوں کا جو یار ہے وہ غدار ہے غدار ہے۔‘

ملیر میں پیر کو پاکستان پیپلز پارٹی کے یوم تاسیس کے موقعے پر بلدیاتی انتخابات کے سلسلے میں منعقد جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو عوام کے دلوں سے نہیں نکالا جاسکتا، وہ کل بھی مزدوروں کے حق کی بات کرتے تھے آج بھی اس کے ساتھ ہیں۔

’سٹیل ملز اور پی آئی اے کی نجکاری کے نام پر بندر بانٹ کی بھرپور مزاحمت کریں گے کیونکہ ہم آج بھی روٹی کپڑا اور مکان کو عوام کا بنیادی حق سمجھتے ہیں۔‘

کراچی میں لیاری کے بعد ملیر کو پاکستان پیپلز پارٹی کا گڑھ تصور کیا جاتا تھا لیکن پارٹی کے اندرونی اختلافات کی وجہ سے گزشتہ عام انتخابات میں اس کو ملیر میں شکست ہوئی اور مقامی سرگرم رہنما حکیم بلوچ نے مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کرلی اور رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔

کراچی میں پانچ دسمبر کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں بھی پیپلز پارٹی کو دیہی علاقوں پر مشتمل ضلع کاؤنسل میں مقامی اتحاد کی مخالفت کا سامنا ہے، جسے مسلم لیگ ن، تحریک انصاف، جماعت اسلامی کی بھی حمایت حاصل ہے۔

بلاول بھٹو نے اپنے انداز خطاب میں والد آصف علی زرداری کا انداز اپنایا اور کہا کہ آج تاریخی موقعے پر ان لوگوں کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں جن کا دن رات پیپلز پارٹی کے خلاف ساز ش میں گزرتا ہے۔

’ان کا مقصد ہماری کردار کشی کرنا اور عوام کو گمراہ کرنا ہے، میں ان سے پوچھتا ہوں کہ آپ کب تک سیاسی روبوٹ تیار کرتے رہیں گے، کتنے بھٹو شہید کرتے رہیں گے، بھٹو ایک نظریہ ایک حقیقیت ہے۔‘

بلاول بھٹو نے بینظیر بھٹو کی 1986 میں خود ساختہ جلاوطنی سے واپسی پر ’ماروی ملیر کی، بینظیر بینظیر‘ جیسے مشہور نعرے بھی لگائے اور اپنی ثابت قدمی کو شعر میں بیان کیا۔

بلاول بھٹو کے ساتھ یوم تاسیس کے باوجود جلسے میں صرف سینیٹر شیری رحمان اور سابق صوبائی مشیر جمیل سومرو موجود تھے۔ بلاول نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ محنت کش، مزدور، کسان ہو یا طالب علم وہ مسائل سے نجات کا ذریعے پیپلز پارٹی کو سمجھتے ہیں۔ انہیں نظریات سے نہ کوئی ہٹا سکا ہے اور نہ ہٹا سکے گا حالانکہ انہیں ہٹانے کےلیے مارشل لا کی دیواریں کھڑی کی گئیں لیکن پاکستان پیپلز پارٹی نے ہر آمر کو شکست دی۔‘

’زبان اور فرقے کی بنیاد پر پاکستان پیپلز پارٹی کے لبادے میں لشکر بنایا گیا۔ سرکاری سر پرستی میں طالب علموں کے ہاتھوں میں ہتھیار تھمایا گیا اور اتحاد جوڑے گئے۔ لیکن ہماری بھرپور کوشش رہی کہ گالی اور گولی کا راستہ روکا جائے۔‘

یاد رہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے بھی بلدیاتی انتخابات کی مہم کے لیے دو روز کراچی میں گزارے تھے جہاں انہوں نے ریلیوں اور جلسوں سے خطاب کیا تھا۔

عمران خان نے لیاری کے مشہور ککری گراؤنڈ میں جلسہ کیا تھا جہاں بلاول بھٹو آج تک جلسہ نہیں کر سکے ہیں۔ اسی مقام پر ان کے نانا ذوالفقار علی بھٹو اور والدہ بینظیر بھٹو نے کئی جلسوں سے خطاب کیا تھا۔

اسی بارے میں