کراچی حملے میں ملٹری پولیس کے دو اہلکار ہلاک

Image caption ہلاک ہونے والے دونوں افراد پر عقب سے فائرنگ کی گئی جو اپنی جیپ کی نشست پر بیٹھے ہوئے تھے: ڈی آئی جی ساؤتھ

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کی اہم شاہراہ ایم اے جناح روڑ پر تبت سینٹر کے قریب ملٹری پولیس کی ایک گاڑی پر مسلح افراد کے حملے میں دو اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

کراچی میں کالعدم تنظیم حزب التحریر کے امیر کی گرفتاری

ریجرز کے تین اہلکار مسلح حملے میں ہلاک

کراچی پولیس کے ڈی آئی جی ساؤتھ ڈاکٹر جمیل احمد کے مطابق ہلاک ہونے والے دونوں افراد پر عقب سے فائرنگ کی گئی جو اپنی جیپ کی نشست پر بیٹھے ہوئے تھے، فائرنگ سے وہ دونوں شدید زخمی ہوگئے۔

انھیں فوری طور پر سول ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ جانبر نہ ہوسکے۔ بعدازاں ان کی میتیں پی این ایس شفا منتقِل کردی گئیں۔

ڈی آئی جی ساؤتھ ڈاکٹر جمیل احمدنے بتایا کہ ’مرنے والوں کے جسم کے اوپری حصے پر گولیاں لگی ہیں۔ حملہ آور ایک موٹر سائیکل پر سوار دو افراد تھے جنہوں نے نقاب پہنے ہوئے تھے۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ حملے کے بعد حملہ آور ایم اے جناح روڑ پر ریڈیو پاکستان کی جانب فرار ہوگئے۔

ڈاکٹر جمیل احمد نے بتایا کہ جائے وقوعہ سے نائن ایم ایم پستول کے چار خول بھی ملے ہیں۔

پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی شناخت ارشاد اور ارشد کے نام سے ہوئی ہے۔ پولیس کا خیال ہے کہ دونوں اہلکار شاید گاڑی میں کوئی کام کروانے کے لیے وہاں آئے تھے۔

یاد رہے کہ امام حسین کے چہلم کے جلوس کا روٹ بھی یہی ہے۔

جمعرات کو ہونے والے چہلم کے جلوس کے حفاظتی انتظامات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ بدھ کی رات دس بجے سے اس علاقے کو مکمل سیل کردیا جائے گا اور جلوس کو مکمل سیکیورٹی دی جائے گی۔

پولیس کے مطابق بدھ کی شب سے موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی لگا ئی جارہی ہے۔

آئی ایس پی ار کے مطابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے ہلاک ہونے والے ملٹری پولیس کے سپاہیوں کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔

اسی بارے میں