سانحۂ پشاور کے چار مجرمان کو پھانسی دے دی گئی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق آرمی پبلک سکول پر حملہ کرنے والا گروپ 27 ارکان پر مشتمل تھا

پاکستان کے عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں فوجی سکول پر حملے میں ملوث چار مجرمان کو پھانسی دے دی گئی ہے۔

پشاور کے آرمی پبلک سکول پر گذشتہ برس 16 دسمبر کو ہونے والے حملے میں 140 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں سے اکثریت طلبا کی تھی۔

سانحہ پشاور کے مجرمان کی رحم کی اپیلیں مسترد

’پشاور سکول حملے کے نو حملہ آور ہلاک، 12 گرفتار‘

پشاور آرمی سکول پر حملے کے چھ مجرموں کو سزائے موت

جن چار مجرمان کو بدھ کو کوہاٹ میں تختۂ دار پر لٹکایا گیا اُن میں مولوی عبدالسلام، حضرت علی، مجیب الرحمٰن عرف نجیب اللہ اور سبیل عرف یحییٰ شامل ہیں۔

وزیرِ اعظم کی تجویز پر صدرِ پاکستان کی جانب سے ان چاروں مجرمان کی رحم کی اپیلیں مسترد کیے جانے کے بعد 30 نومبر کو پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے ان کی سزائے موت کے بلیک وارنٹس پر دستخط کر دیے تھے۔

جن مجرموں کو پھانسی دی گئی ہے ان میں سے مولوی عبدالسلام سرکاری ملازم اور پشاور میں محکمہ آبپاشی کی مسجد کے پیش امام تھے اور ان پر حملہ آوروں کو رہائش فراہم کرنے کا الزام تھا۔

بقیہ تینوں مجرموں پر بھی آرمی پبلک سکول پر حملہ کرنے والوں کی مدد کا الزام تھا تاہم حکام کی جانب سے مدد کی نوعیت کے بارے میں وضاحت نہیں کی گئی تھی۔

خیال رہے کہ پشاور حملے کے بعد نیشنل ایکشن پلان کے تحت قائم کی گئی فوجی عدالتوں نے ان چار افراد سمیت حملے میں ملوث چھ مجرموں کو سزائے موت دینے کا حکم دیا تھا۔

جو دو مجرم اب بھی اپنی سزا پر عمل درآمد کے منتظر ہیں ان میں تاج محمد عرف رضوان اور عتیق الرحمٰن عرف عثمان شامل ہیں۔

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق آرمی پبلک سکول پر حملہ کرنے والا گروپ 27 ارکان پر مشتمل تھا جس کے نو ارکان مارے گئے جبکہ 12 کو گرفتار کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں