افغان طالبان کے سربراہ ملا منصور فائرنگ سے ’زخمی‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ملا عمر کی جگہ ملا اختر منصور کو طالبان کا نیا امیر مقرر کیا گیا تھا

طالبان کے ذرائع کے مطابق افغان طالبان کے سربراہ ملا منصور اختر فائرنگ کے ایک واقعے میں شدید زخمی ہوئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاقے کچلاک میں پیش آیا ہے۔

افغان طالبان میں قیادت پر اختلافات، نیا دھڑا تشکیل

افغان طالبان کی قیادت کے لیے جنگ

تاہم طالبان کے ایک ترجمان نے کسی مسلح جھڑپ اور ملا منصور اختر کے زخمی ہونے کی خبروں کی تردید کی ہے جبکہ بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ کوئٹہ کے قریب ملا اختر منصور کے زخمی ہونے کی اطلاعات بے بنیاد ہیں۔

افغان طالبان کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ایک ملاقات میں بحث کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوئے جبکہ ملا منصور اختر اس میں شدید زخمی ہو گئے۔

طالبان ذرائع کے مطابق بظاہر فائرنگ کا واقعہ اچانک ہی پیش آیا اور اس کی پہلے سے منصوبہ بندی نہیں کی گئی تھی۔

طالبان کے دیگر کئی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ملا منصور اختر اور ان کے محافظ ایک دوسرے عسکریت پسند عبداللہ سرحدی کے گھر موجود تھے جب فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔

بی بی سی کے داؤد اعظمی کے مطابق عبداللہ سرحدی کو امریکی جیل گوانتاناموبے میں کئی برس قید میں گزارانے پر طالبان کے حلقوں میں خاصی اہمیت حاصل ہے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے طالبان کے ایک سینیئر کمانڈر کے حوالے سے بتایا ہے کہ’ بات چیت کے دوران چند سینیئر افراد نے اختلاف رائے کیا اور فائرنگ شروع کر دی۔‘

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ان اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ’یہ افواہیں بالکل بے بنیاد ہیں۔ ملا منصور اختر مکمل طور پر صحت مند ہیں اور ان کے ساتھ کچھ نہیں ہوا۔‘

بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے بھی کوئٹہ شہر کے قریب افغان طالبان کے سربراہ ملا اختر منصور کے زخمی ہونے کی اطلاعات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

افغان ذرائع سے میڈیا میں یہ اطلاعات آئی ہیں کہ ملا اختر منصور بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے قریب کچلاک میں زخمی ہوئے ہیں۔

کچلاک کوئٹہ شہر سے شمال میں تقریباً 25 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور اس کی آبادی مختلف پشتون قبائل پر مشتمل ہے۔ وہاں طویل عرصے افغان مہاجرین کی بھی ایک بڑی آبادی موجود ہے۔

افغان ذرائع کی اطلاعات میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کے بعد زخمی ہونے کے بعد ملا اختر منصور کوئٹہ شہر کے ایک ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

جب بی بی سی نے ان اطلاعات کے حوالے سے بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی سے رابطہ کیا تو انھوں نے ان اطلاعات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے انھیں پاکستان کے خلاف جھوٹا پروپیگینڈہ قرار دیا۔

جولائی میں افغان طالبان کے بانی امیر ملا عمر کی ہلاکت کے اعلان کے بعد سے شدت پسند گروپ کی قیادت کا معاملہ اختلافات کا شکار رہا ہے۔

ملا عمر کی جگہ ملا اختر منصور کو طالبان کا نیا امیر مقرر کیا گیا تھا تاہم ابتدا میں ملا عمر کے بعض حامیوں کی جانب سے اس فیصلے کی مخالفت کی گئی تھی۔

تاہم رواں برس ستمبر میں افغان طالبان کا دعویٰ سامنے آیا کہ وہ تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے نئے رہنما ملا اختر محمد منصور کی سربراہی میں متحد ہیں۔

اسی بارے میں