چاغی سے تین کم عمر چرواہوں کی تشدد زدہ لاشیں برآمد

Image caption تینوں چرواہے پدگ کے پہاڑی علاقے رائیو میں بھیڑ بکریاں چرانے گئے تھے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع چاغی میں تین کم عمر لڑکوں کی تشدد زدہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں اور حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک کیے جانے والے تینوں لڑکے چرواہے تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ لڑکوں کو ہلاک کرنے کا واقعہ ضلع کے علاقے پدگ میں پیش آیا۔

چاغی میں انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا کہ ہلاک کیے جانے والے تینوں لڑکے چرواہے تھے۔

بلوچستانسے تین افراد کی تشدد زدہ لاشیں برآمد

بلوچستان کے مختلف علاقوں سے دو لاشیں برآمد

کیچ سے دو افراد کی تشدد زدہ لاشیں برآمد

ان کا کہنا تھا کہ تینوں چرواہے پدگ کے پہاڑی علاقے رائیو میں بھیڑ بکریاں چرانے گئے تھے۔ بدھ کی رات ان کی بھیڑ بکریاں واپس آئیں لیکن چرواہے اپنے گھروں کو نہیں لوٹے۔

ان کے رشتہ دار ان کی تلاش کے لیے نکلے جس کے دوران آج جمعرات کو تینوں چرواہوں کی لاشیں ملیں۔ اہلکار کا کہنا تھاکہ تینوں چرواہوں کی عمریں 13 سے18 سال کے درمیان تھی۔

اہلکار نے بتایا کہ تینوں چرواہوں کے جسم پر تشدد کے نشانات بھی ہیں۔ تشدد کے نشانات سے اندازاہ لگایا جاسکتا ہے پہلے نامعلوم افراد نے ان تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کے بعد ان کو گولیاں مارکر ہلاک کیا۔

چاغی بلوچستان کا وہ ضلع ہے جس کی سرحد مغرب میں ایران جبکہ شمال میں افغان سے ملتی ہے۔

رائیو ضلع میں راسکوہ کی پہاڑی علاقے سے متصل علاقہ ہے جہاں تین چرواہوں کی ہلاکت اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔

انتظامیہ کے اہلکار نے بتایا کہ ملزمان کا پتہ لگانے کے لیے کوششیں شروع کردی گئی ہیں مگر تاحال چرواہوں کی ہلاکت کے محرکات معلوم نہیں ہو سکے۔

اسی بارے میں