’شناختی کارڈ کی شرط معاہدے کا حصہ نہیں تھی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یونان میں سینکڑوں پاکستانی جعلی دستاویزات کے الزام میں پکڑے گئے ہیں

پاکستان میں یورپی یونین کے نمائندہ وفد نے کہا ہے کہ پاکستان بھیجے جانے والے تارکینِ وطن کی تفصیلات پہلے سے پاکستانی حکام کو فراہم کی گئی تھیں اور پاکستانی سفارت خانوں ہی نے ان تمام افراد کو سفری دستاویز جاری کی تھیں۔

پاکستان بھیجے جانے والے غیر قانونی تارکینِ وطن کی ایک بار پھر یورپ واپسی کے متعلق یورپی یونین کے وفد نے اپنے ردِعمل میں کہا ہے کہ ’اس پرواز کا انتظام یورپی ایجنسی فرینیٹکس نے کیا تھا اور تین دسمبر کو اس کی پاکستان میں اترنے کی اجازت پاکستانی حکام نے خود دی تھی۔‘

’شہریت پر تنازع، 30 افراد نہ یونان کے نہ پاکستان کے‘

یہ تارکینِ وطن یونان، بلغاریہ اور آسٹریا سے پاکستان بھیجے گئے تھے۔

بیان کے مطابق ابتدائی طور پر تینوں ممالک سے کم سے کم 61 افراد کے نام پاکستانی حکام کو بھیجے گئے تھے جن کی شناخت کرنے کے بعد پاکستانی سفارت خانوں نے انھیں سفری دستاویز فراہم کی تھیں۔

مکمل فہرست حاصل کرنے کے بعد پاکستان کی وزراتِ داخلہ نے کہا کہ جن افراد کے قومی شناختی کارڈ نمبروں کی تصدیق ہو گی صرف انھی کو قبول کیا جائے گا۔

بیان کے مطابق ’پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان حوالگی سے متعلق معاہدے کے مطابق درکار دستاویزات میں شناختی کارڈ کا ہونا لازمی نہیں ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption حال ہی میں یورپی جانے کے خواہش مند بعض تارکینِ وطن کی لاشیں پاکستان لوٹی تھیں

پاکستان میں یورپی یونین کے نمائندے کے مطابق یہ امید کی جا رہی تھی کہ ’پاکستانی حکام ان غیر قانونی تارکینِ وطن کے شناختی کارڈوں کی تصدیق خود کریں گے کیونکہ انھیں پاکستانی سفارت خانوں ہی نے سفری دستاویز فراہم کیے تھے۔‘

پاکستان آنے والے تارکینِ وطن میں سے 19 کو قبول کر لیا گیا کیونکہ ان کے پاس قومی شناختی کارڈ تھے جبکہ 50 کو واپس یورپ بھجوا دیا گیا۔

بیان کے مطابق تارکینِ وطن کے نام اور دیگر معلومات فراہم کیے جانے کے بعد پاکستانی حکام کے پاس کافی وقت تھا جس میں وہ ان کے شناختی کارڈوں کے نمبروں کی تصدیق کر لیتے۔

بیان کے مطابق یہ واقعہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان حوالگی کے معاہدے کے نفاذ کو بہتر بنانے کے ضرورت ہے جیسا کہ 23 نومبر کو یورپی کمشنر اور پاکستانی وزیرِ داخلہ کے درمیان زیرِ بحث بھی رہا۔

اس ملاقات میں دونوں نے معاہدے کی شقوں کے نفاذ کے لیے اس کے تکنیکی ابہام دور کرنے کا عزم کیا تھا۔ اس بارے میں کہا گیا تھا کہ آئندہ چند ماہ میں باہمی تعاون سے اختلافات دور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

اسی بارے میں