بینکاک میں پاک بھارت قومی سلامتی کے مشیروں کی ملاقات

تصویر کے کاپی رائٹ Indian Foreign Ministry
Image caption بھارتی دفتر خارجہ کے ترجمان نے دونوں مشیروں کی ملاقات کی تصویر بھی جاری کی ہے

پاکستان کے دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے مشیر برائے قومی سلامتی کے درمیان ملاقات ہوئی ہے جس میں دہشت گردی، لائن آف کنٹرول پر کشیدگی سمیت تمام اُمور پر بات چیت کی گئی ہے۔

اتوار کو پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ تھائی لینڈ کے شہر بینکاک میں پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر ناصر جنجوعہ نے بھارت ہم منصب اجیت ڈوال سے ملاقات کی۔

محبتوں کے شہر پیرس میں نواز مودی ملاقات

بھارت کا خارجہ سیکریٹری سطح کے مذاکرات ختم کرنے کا اعلان

’کسی شرط کے بغیر مذاکرات کے لیے بھارت جانے کو تیار ہوں‘

دونوں ممالک کے سیکریٹری خارجہ کی موجودگی میں ہونے والی اس ملاقات میں جموں و کشمیر، خطے میں امن، دہشت گردی اور لائن آف کنٹرول پر کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ قاضی خلیل اللہ نے کہا کہ بینکاک میں ہونے والی یہ ملاقات پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کی پیرس میں ہونے والی مختصر ملاقات کے تناظر میں ہوئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ MEA India
Image caption بینکاک میں ہونے والی یہ ملاقات پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کی پیرس میں ہونے والی مختصر ملاقات کے تناظر میں ہوئی ہے

قومی سلامتی کے مشیروں کی ملاقات کے بعد ایک مختصر بیان بھی جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق دونوں ممالک کے مشیروں کی ملاقات مثبت اور تعمیری ماحول میں ہوئی ہے اور دونوں ملک نے مستقبل میں بھی تعمیری بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

یاد رہے کہ افغانستان میں قیامِ امن سے متعلق 8 دسمبر سے شروع ہونے والی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں پاکستان نے بھارت کو بھی مدعو کیا ہے۔

اسی کانفرنس کے حوالے سنیچر کو وزیراعظم نواز شریف نے قومی سلامتی کے مشیر ناصر جنجوعہ سے ملاقات بھی کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ ROBIN SINGH
Image caption ملاقات میں جموں و کشمیر، خطے میں امن، دہشت گردی اور لائن آف کنٹرول پر کیشدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا

پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم نے روس کے شہر اوفا میں ہونے والی ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا اور کہا تھا کہ جلد پاکستان اور بھارت کے مشیر قومی سلامتی کے درمیان ملاقات ہو گی لیکن کشمیری قیادت سے ملاقات کے تنازع پر یہ بات چیت منعقد نہیں ہو سکی تھی۔

اس وقت کے مشیر قومی سلامتی سرتاج عزیز نے کہا تھا کہ بھارت نے پاکستان پر الزام عائد کیا ہے کہ اوفا میں طے ہونے والے معاہدے کے تحت قومی سلامتی کے مشیروں کے مذاکرات میں کشیمر کا ایجنڈا شامل نہیں ہو سکتا جو غلط ہے۔

انھوں نے واضح کیا کہ اوفا معاہدے کے تحت امن کے قیام کے لیے پاکستان اور بھارت تمام حل طلب مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا لیکن پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرت کے ایجنڈے پر اختلاف کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان بات چیت منسوخ ہو گئی تھی۔

اسی بارے میں