پی آئی اے کو کارپوریشن لمیٹڈ بنانے کا آرڈیننس جاری

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption حزبِ اختلاف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے اس صدارتی آرڈیننس کے اجرا پر شدید تنقید کی ہے

پاکستان میں حکومت نے آرڈیننس کے ذریعے پاکستان کی قومی فضائی کمپنی پی آئی اے کو ایک لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل کر دیا ہے اور اب پی آئی اے کمپنیز آرڈیننس 1984 کے تحت ایک کمپنی کے طور پر کام کرے گی۔

پی آئی اے کے چیئرمین ناصر جعفر نے کراچی میں ایک پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ اب پی آئی اے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ بن جائے گی جو انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن کے تمام اثاثے، ذمہ داریوں، معاہدوں کی وارث ہو گی۔

ناصر جعفر نے مزید کہا کہ اسی آرڈیننس کے تحت ’پی آئی اے سی‘ کے تمام ملازمین موجودہ عہدوں پر ہی نئی کمپنی میں کام کرتے رہیں گے۔

دوسری جانب حزبِ اختلاف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے اس صدارتی آرڈیننس کے اجرا پر شدید تنقید کی ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کے چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈی والا نے اس آرڈیننس کو پی آئی اے کی نجکاری کی کوشش قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کیا ہے۔

سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت نے رات کے اندھیرے میں پی آئی اے کی نجکاری کے لیے صدارتی آرڈیننس جاری کیا اور پارلیمنیٹ کے ہوتے ہوئے صدارتی آرڈیننس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

یاد رہے کہ مختلف مبصرین اس اقدام کو پی آئی اے کی نجکاری کی جانب ایک اہم قدم قرار دے رہے ہیں۔

مالیاتی خسارے اور بدانتظامی جیسے سنگین مسائل کی شکار قومی ایئر لائن کی موجودہ انتظامیہ نے ہنگامی بنیادوں پر لیز پر نئے طیارے فراہم کیے ہیں جس کے نتیجے میں پی آئی اے کے فعال طیاروں کی تعداد 39 تک پہنچ گئی ہے ۔

حزبِ اختلاف کے مختلف اراکینِ نے متعدد بار ان سب اقدامات کو پی آئی اے کو نجکاری کے لیے تیار کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

پی آئی اے کے ایک سینیئر اہلکار نے نام بتانے کی شرط پر بتایا کہ ‘انتظامیہ کی کوشش ہے کہ جتنے کم وقت میں ہو سکے کمپنی کو اس حالت میں بدلا جائے کہ کوئی اچھا گاہک اس کے انتظام کو سنبھالنے میں دلچسپی ظاہر کرے کیونکٰہ جو حالت کمپنی کی تھی اس میں تو اسے کسی نے بھی حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرنی تھی۔‘

اسی بارے میں