رینجرز کے اختیارات میں توسیع سندھ اسمبلی کی منظوری سے مشروط

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صوبائی حکومت نے رینجرز اختیارات میں توسیع سندھ اسمبلی کی منطوری سے مشروط کررکھی ہے

پاکستان کے صوبہ سندھ کی اسمبلی کا اجلاس جمعرات صبح طلب کرلیا گیا ہے تاہم جمعے کے روز رینجرز کے اختیارات پر بحث مباحثے کا امکان ہے۔

صوبائی حکومت نے رینجرز کے اختیارات میں توسیع سندھ اسمبلی کی منظوری سے مشروط کر رکھی ہے۔

حکمران پاکستان پیپلز پارٹی کی درخواست پر گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے جمعرات کی صبح دس بجے صوبائی اسمبلی کا اجلاس طلب کیا ہے۔

روایت کے مطابق رکن صوبائی اسمبلی جمیل بھرگڑی کے انتقال پر پہلے روز کی کارروائی ملتوی کردی جائےگی جبکہ دوسرے روز پیپلز پارٹی کی جانب سے رینجرز اختیارات پر قرار داد پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

حکومتی حلقوں کے مطابق قرار داد میں رینجرز کو پولیس کے اختیارات میں ہر ماہ توسیع کرنے، سیاسی شخصیات کی گرفتاری وزیر اعلیٰ کی منظوری سے مشروط کرنے اور آپریشن کی نگرانی کے لیے پارلیمانی کمیٹی کے قیام کی تجاویز شامل ہیں۔

سینیئر صوبائی وزیر نثار کھوڑو کا کہنا ہے کہ اسمبلی سے منظوری لینے کےبعد یہ مسئلہ حل ہوجائے گا۔

واضح رہے کہ شہر میں امن و امان کی صورتحال پر ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس کے باوجود سندھ میں رینجرز کی خصوصی اختیارات کی مدت میں توسیع کے معاملے پر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ اس اجلاس میں وزیر اعظم میاں نواز شریف، فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے بھی شرکت کی تھی۔

پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم رینجرز آپریشن پر تحفظات کا اظہار کرتی رہی ہیں لیکن ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری کے بعد اس میں شدت آئی ہے۔ رینجرز کو حاصل پولیس کے اختیارات میں توسیع پر گزشتہ مرتبہ بھی حکومت نے اعتراض کیا تھا لیکن بعد میں سابق صدر آصف علی زرداری کی مداخلت پر اس اعلان کے ساتھ نوٹیفیکیشن جاری کردیا گیا کہ سندھ اسمبلی سے اس کی منظوری لی جائیگی لیکن عملدرآمد نہیں ہوسکا تھا۔

تجزیہ نگار شہاب اوستو کا کہنا ہے کہ رینجرز کو پولیس کے اختیارات دیے گئے ہیں جو صوبائی معاملہ ہے اور اس فیصلے کی آئینی پشت پناہی نہیں تھی اسی نقطے پر قانونی معاملہ اٹھ سکتا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تحریک انصاف اور مسلم لیگ فنکشنل رینجرز کو پولیس کے اختیارات دینے کے مطالبات کر رہی ہیں لیکن ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ وہ مشروط حمایت کریں گے

شہاب اوستو کے مطابق یقیناً حکومت اپنے مفادات کو تحفظ فراہم کرے گی، وہ سمجھتی ہے کہ وہ اپنے رہنماؤں یا حلیفوں کو رینجرز کے جو قانون سے بالاتر اقدامات ہیں ان سے بچائے۔

تحریک انصاف اور مسلم لیگ فنکشنل رینجرز کو پولیس کے اختیارات دینے کے مطالبات کر رہی ہیں لیکن ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ وہ مشروط حمایت کریں گے لیکن وہ شرائط کیا ہیں یہ سامنے نہیں آئے۔

سینیئر صوبائی وزیر نثار کھوڑو کے مطابق یہ واضح نہیں کہ ایم کیو ایم اس قرار داد کی حمایت کرتی ہے یا مخالفت لیکن جب قرار داد پیش ہوگی تو ہر جماعت کو اظہار رائے کا حق حاصل ہوگا۔

ایم کیو ایم رینجرز کے آپریشن کی نگرانی کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کرتی رہی، ایم کیو ایم کے اراکین نے اس بنیاد پر اسمبلیوں سے استعفے بھی دیئے بعد میں اسمبلیوں کی واپس سے قبل وفاقی حکومت نے سابق جسٹس ناصر اسلم زاہد کی سربراہی میں کمیٹی کااعلان کیا لیکن اس کے بعد اس کی کوئی کارروائی سامنے نہیں آئی۔

سینیئر صوبائی وزیر نثار کھوڑو کے مطابق وفاقی حکومت نے ریٹائرڈ جـجز کی نگرانی میں کمیٹی بنائی لیکن اس میں ایم کیو ایم کے سینیٹر کو شامل کرکے اس کو متنازعہ بنادیا بعد میں سینیٹر نسیم فروغ مستعفی بھی ہوگئے۔

’صوبائی چیف ایگزیکیٹو کی سربراہی میں ایپکس کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں جس میں کور کمانڈر، ڈی جی رینجرز، چیف سیکریٹری، آئی جی پولیس اور وزرا شامل ہیں۔ آئین اور قومی اسبملی نے ان ایپکس کمیٹیوں کا تصور دیا اگر اس پر ایک اور نگرانی کمیٹی ہوجاتی ہے تو پھر ایپکس کمیٹی کی افادیت کیا رہے جاتی سوال یہ ہے۔‘

اسی بارے میں