جلاؤ گھیراؤ میں میڈیا کا کردار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مظاہروں کی وجہ سے بیشتر اوقات شہر میں گھنٹوں ٹریفک کے آمد و رفت میں بند رہتی ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں عموماً سیاسی جماعتوں اور دیگر مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں کی جانب سے سڑکوں پر مظاہروں اور جلسے جلوسوں کا انعقاد کیا جاتا ہے جس سے اکثر اوقات عوام بالخصوص مریضوں کو کئی قسم کے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ان مظاہروں کی وجہ سے بیشتر اوقات شہر میں گھنٹوں ٹریفک کے آمد و رفت میں بند رہتی ہے جس کے باعث بعض اوقات سارے شہر کا پورا نظام درھم برھم نظر آتا ہے۔

ایسے ناخوشگوار اور پر تشدد واقعات میں میڈیا کے کردار کیا ہونا چاہیے اس ضمن میں خیبر پختونخوا پولیس کی جانب سے صحافیوں کی تربیت کےلیے ایک روز سیمنار کا اہتمام کیا گیا۔ سیمنار پولیس سکول آف پبلک ڈس آرڈر اینڈ رائیٹ مینجمنٹ مردان میں منعقد کیا گیا جس میں خیبر پختونخوا پولیس کے سربراہ ناصر خان درانی نے بحثیت مہمان خصوصی شرکت کی۔

سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس ناصر خان درانی نے کہا کہ پولیس اور میڈیا ایک ہی کشتی کے دو مسافر ہیں اور دونوں کا منزل و مقصود ایک اور دونوں کی مثبت کردار کی ادائیگی سے ملک کی ترقی و خوشحالی کو ممکن بنایا جاسکتاہے۔

Image caption ناصر خان درانی کے مطابق ہڑتال کرنے والے سڑکوں کو بلاک کرکے عوام کے لیے مشکلات اور تکالیف پیدا کرتے ہیں

انھوں نے صحافیوں پر زور دیا کہ وہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال اور پر تشدد واقعات کی کوریج کے دوران ملک کے وسیع تر مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے دہشت گرد عناصر کی حوصلہ شکنی پر توجہ مرکوز کریں۔ آئی جی پی نے کہا کہ احتجاج کرنا ہر ایک انسان کا حق ہے لیکن اس کو طریقے اور سلیقے سے کرکے بھی مطلوبہ اہداف و مقاصد کو حاصل کیا جاسکتا ہے۔

ناصر خان درانی کے مطابق ہڑتال کرنے والے سڑکوں کو بلاک کرکے عوام کے لیے مشکلات اور تکالیف پیدا کرتے ہیں جس سے معمول کی روزمرہ زندگی معطل ہوکر رہ جاتی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کےلیے تین طریقے استعمال کیے جاسکتے ہیں جس میں پہلا یہ کہ میڈیا ہڑتال کرنے والوں کی رہنمائی کرتے ہوئے ان میں شعور اُجاگر کرنے کی کوشش کریں اور اس وقت تک انھیں کوریج نہیں دینی چاہیے جب تک وہ پُر امن طریقے سے اپنا احتجاج ریکارڈ نہیں کرتے۔

انھوں نے کہا کہ حکومت فوری طور پر احتجاج کرنے والوں کے مسائل کے حل کے لیے ایک مکنیزم تیار کریں جو کہ حکومت کی ذمہ داری بھی ہے۔

Image caption تقریب میں پشاور اور مردان سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافیوں اور عبدالولی خان یونیورسٹی کے طالب علموں نے شرکت کی

آئی جی پی کے مطابق تیسرا طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ کہ موقع پر موجود پولیس افسروں کو فوری طور پر طاقت کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے بلکہ وہاں موجود افسروں کو اپنا دماغ استعمال کرتے ہوئے احتجاج کرنے والوں کی نفسیات کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے اور حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مسئلے کو گفت و شنید کے ذریعے حل کرنا چاہیے۔

تقریب میں پشاور اور مردان سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافیوں، کالم نگاروں اور عبدالولی خان یونیورسٹی کے شعبہ صحافت کے طالب علموں نے شرکت کی۔

واضح رہے کہ پولیس سکول آف پبلک ڈس آرڈر اینڈ رائٹ منیجمنٹ جنوری 2015 میں پولیس اسٹیشن طورو مردان میں قائم کیا گیا ہے۔ یہ ادارہ پرسٹن یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات کے تعاون سے کام کر رہا ہے۔

اسی بارے میں