انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر کوئٹہ میں مظاہرے

Image caption مقررین نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں حقوق انسانی کے پامالی کے واقعات کو روکا جائے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں انسانی حقوق کے عالمی دن کی مناسبت سے احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔

یہ مظاہرے کوئٹہ پریس کلب کے باہر منعقد ہوئے۔

ان میں سے ایک مظاہرہ لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز، ہومین رائٹس کمیشن آف پاکستان اور بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کی جانب سے مشترکہ طور پر منعقدکیا گیا۔

مظاہرے سے قبل ان تنظیموں کی جانب سے پریس کلب میں ایک سیمنار بھی منعقد کیا گیا۔

سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے الزام عائد کیا کہ بلوچستان میں بڑے پیمانے پر حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کی چیئر پرسن بی بی گل بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں آپریشن اب بھی جاری ہے۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ نہ صرف لوگوں کو لاپتہ کرنے کا سلسلہ جاری ہے بلکہ مختلف علاقوں میں لوگوں کے گھروں کو بھی جلایا جارہا ہے۔

مقررین نے حقوق انسانی کی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالی کو روکنے کے لیے کردار ادا کریں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ایف سی کے بیان کے مطابق ہڑتال کی کال کے باوجود صوبے بھر میں معمولات زندگی معمول کے مطابق جاری رہی (فائل فوٹو)

دوسرا مظاہرہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل ) کے زیر اہتمام کیا گیا جس میں خواتین بھی شریک تھیں۔

مقررین نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں حقوق انسانی کے پامالی کے واقعات کو روکا جائے۔

سخت گیر موقف کے حامل قوم پرست جماعتوں کے اتحاد بلوچ نیشنل فرنٹ کی جانب سے انسانی حقوق کی پامالی کے واقعات کے خلاف ہڑتال کی کال دی گئی تھی۔

فرنٹ کی جانب سے مقامی میڈیا کو جاری کیئے جانے والے ایک بیان کے مطابق ہڑتال کی کال پر متعدد علاقوں میں شٹر ڈاؤن ہڑتال بھی رہی۔

تاہم کوئٹہ میں فرنٹیئر کور کے ترجمان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ہڑتال کی کال ایف سی، عوام اورسول انتظامیہ کی کو کوششوں سے ناکام بنا دی گئی۔

اسی بارے میں