وزیرِاعلی کوئی ہو کیا فرق پڑتا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ثنا اللہ زہری کا شمار ان وفادار سرداروں میں ہوتا ہے جو ایک قدامت پسند ڈھانچے اور اسٹیٹس کو روایات کے امین ہیں اور یہی پہلو ان کی سیاسی طاقت کا بھی سرچشمہ ہے

بلوچستان کا صوبہ پینتالیس برس پہلے 1970 میں ون یونٹ (مغربی پاکستان) کے خاتمے کے نتیجے میں وجود میں آیا۔ اگر باقی تین صوبوں کو دیکھا جائے تو پنجاب اور سندھ میں ان 45 برسوں کے دوران مارشل لا ادوار چھوڑ کے 19 منتخب و قائم مقام سویلین حکومتیں بنیں اور دو دو بار گورنر راج لگا۔ اس عرصے کے دوران خیبر پختون خوا میں 18 سویلین حکومتیں رہیں اور تین بار گورنر راج۔ مگر انتظامی اعتبار سے سب سے کم عمر، پسماندہ اور سب سے کم آبادی والے صوبے بلوچستان نے 45 برس کے دوران 22 سویلین حکومتیں، چار گورنر راج اور وفاق کے خلاف دو بغاوتیں دیکھیں۔

مری معاہدے کے تحت اب ثنا اللہ زہری وزیراعلیٰ بلوچستان

’آزادی کے لیے بھارت سے کبھی مدد مانگی نہ مانگیں گے‘

بلوچستان میں موجودہ مسلح بغاوت کے دورانیے کو اگر نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت سے بھی شمار کیا جائے تو آج نواں برس ہو رہا ہے۔ یہ ہلاکت وزیرِ اعلی جام محمد یوسف کے دور میں ہوئی۔ ان کے بعد پانچ ماہ کے لیے سردار محمد صالح بھوتانی قائم مقام وزیر اعلی رہے اور پھر نواب اسلم رئیسانی کا پانچ سالہ دور شروع ہوا جس میں نسلی، قبائلی، سیاسی، فرقہ وارانہ، امن و امان اور گورننس کے حالات بد تر ہوتے گئے۔

لیکن بلوچستان سردار عطا اللہ مینگل اور غوث بخش بزنجو کی پہلی نو ماہی حکومت کے بعد سے چونکہ اسلام آبادی اسٹیبلشمنٹ کی ریموٹ کنٹرول لیبارٹری ہی بنا آ رہا ہے لہٰذا کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی بھی وزیرِ اعلی اپنی شخصیت اور اعمال میں کتنا سنجیدہ یا غیر سنجیدہ ہے۔

البتہ جون 2013 میں یہ تاریخ ضرور رقم ہوئی کہ پہلی بار ایک غیر سردار سیاسی کارکن ڈاکٹر عبدالمالک صوبے کا وزیرِ اعلی بنا اور وہ بھی اس شرط پر کہ ڈھائی برس بعد کرسی خالی کرنا ہوگی۔ ڈاکٹر مالک نے اپنے مختصر دور میں جتنا اختیار اور جیسی گنجائش میسر تھی اس کا چابکدستی سے استعمال کرنے کی کوشش کی۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں کچھ اصلاحات ہوئیں۔ کرپشن کا گراف نسبتاً نیچے آیا، صوبائی بیوروکریسی میں ڈسپلن اور جوابدہی پہلے سے بہتر دکھائی دی۔ ڈاکٹر مالک کی حکومت جس کے ایک طرف عسکری اسٹیبلشمنٹ کی کھائی تھی اور دوسری جانب مسلح قوم پرستی کا غار ایک تنے رسے پر توازن قائم کیے رہی۔

چنانچہ ڈاکٹر مالک نے اسٹیبلشمنٹ کا اعتماد حاصل کرتے ہوئے اپنے پرانے سیاسی ورکرانہ تجربے اور کنکشنز کی مدد سے خان آف قلات، براہمداغ بگٹی اور حیربیار مری سے ابتدائی رابطے کیے۔ نتیجے میں بلوچ علیحدگی پسند حلقوں میں ایک لچکدار تصفیے کے لیے آمادگی کی رمق نظر آنی شروع ہو گئی۔ مگر وہ گھڑی بھی آ گئی جب ڈاکٹر مالک کو مخلوط حکومت کے شراکت داروں کے درمیان ہونے والے مری سمجھوتے کے تحت اگلے ڈھائی برس کے لیے سردار ثنا اللہ زہری کے لیے جگہ خالی کرنا پڑی۔

اگرچہ ثنا اللہ زہری ڈاکٹر مالک کابینہ میں بطور سینیئر وزیر کان کنی، قدرتی وسائل، صنعت، مواصلات اور تعمیرات کے وزارتی قلمدانوں کے مالک تھے لیکن وزارتِ اعلیٰ کے سٹیکر کی بہرحال اپنی کشش اور اہمیت ہے۔

اب جب حسبِ وعدہ ایک بار پھر حسبِ روایت ایک اور طاقتور سردار ایک سیاسی کارکن کی جگہ وزیرِ اعلیٰ بن گیا ہے تو بلوچستان کے پیچیدہ اور حساس مسئلے کے لیے اس تبدیلی کی کیا اہمیت ہے۔ ڈاکٹر مالک متحارب حلقوں کے لیے یوں بھی قابلِ قبول تھے کہ بطور عام آدمی ان کی قبائلی دشمنی کسی سے نہیں تھی۔

مگر نئے وزیرِ اعلیٰ کے بارے میں تو یہ مشہور ہے کہ وہ سماجی رتبے کے ساتھ ساتھ طبعاً بھی بادشاہ ہیں اور ان کے اردگرد بھی ایسا ہی من موجی قسم کا جھمگھٹا ہے۔ اگرچہ ان کے نانا نواب نوروز خان بلوچستان کے مزاحمتی ہیرو تھے لیکن والد سردار دودا خان زرکزئی نے ہر اسٹیبلشمنٹ سے بنا کے رکھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ڈاکٹر مالک متحارب حلقوں کے لیے یوں بھی قابلِ قبول تھے کہ بطور عام آدمی ان کی قبائلی دشمنی کسی سے نہیں تھی

چون سالہ ثنا اللہ زہری کا سیاسی ٹریک ریکارڈ بھی سرداری و اقتداری شاہراہ سے گذرتا ہے اور اسی شاہراہ پر چلتے ہوئے وہ 1990 سے اب تک رکنِ صوبائی اسمبلی، سینیٹر یا وزیر رہتے آئے ہیں۔ کبھی نیشنل پارٹی کے منڈب سے تو کبھی آزاد حیثیت میں اور پچھلے پانچ برس سے مسلم لیگ ن کے پلیٹ فارم سے۔

لیکن ثنا اللہ زہری کا شمار ان وفادار سرداروں میں ہوتا ہے جو ایک قدامت پسند ڈھانچے اور اسٹیٹس کو روایات کے امین ہیں اور یہی پہلو ان کی سیاسی طاقت کا بھی سرچشمہ ہے۔ ان کی خاندانی و قبائلی دشمنیاں یہاں سے وہاں تک ہیں اور اس حد تک ہیں کہ ان کے ایک قریبی دوست کے بقول ثنا اللہ کے خاندان میں عرصے سے کسی مرد نے طبعی موت کا ذائقہ نہیں چکھا۔

رئیسانیوں اور زہریوں کی عشروں پر محیط جھالاوانی دشمنی نے بیسیوں افراد کھا لیے۔ خاندانی دشمنیاں الگ ہیں۔ خود ثنا اللہ زہری پر اپنے بھائی رسول بخش زہری کے قتل کا الزام لگا جو ظفراللہ جمالی کی وزارتِ اعلی کے دور میں واپس ہوا۔ مئی 2013 کے عام انتخابات سے قبل ثنا اللہ کے قافلے پر شب خون کے نتیجے میں ان کا بیٹا ، بھائی اور بھتیجا جاں بحق ہو گئے۔ اگرچہ بلوچستان لبریشن آرمی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی مگر مسلح بلوچ تحریک کے رہنما ڈاکٹر اللہ نذر نے مبینہ طور پر حملے سے لاتعلقی ظاہر کی۔

البتہ ایف آئی آر میں سردار عطا اللہ مینگل، اختر مینگل، جاوید مینگل، حیربیار مری اور براہمداغ بگٹی نامزد ہوئے۔ حال ہی میں یہ نام واپس لے لیے گئے ہیں۔

اس پس منظر کے ساتھ وزیرِ اعلی سردار ثنا اللہ زہری بلوچستان کو بحران سے نکالنے کے ڈاکٹر مالک کے رابطہ مشن کو کیسے آگے بڑھائیں گے؟ یہ سوال ہر وہ شخص پوچھ رہا ہے جسے بلوچستان کے مستقبل سے ذرا بھی دلچسپی ہے۔

مگر پھر وہی بات کہ ایسا صوبائی جنگل جہاں ہر وزیرِ اعلیٰ کو ایک تیار شدہ اختیاراتی صندوق میں مقید رہ کر ہی کرتب دکھانا ہے وہاں شیر کو کیا فرق پڑتا ہے کہ اس کا وزیرِ اعلی کوئی خرگوش ہو کہ لومڑی ۔۔۔۔