آپریشن ضرب عضب: 3400 دہشت گرد اور 488 سکیورٹی اہلکار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption خفیہ اطلاعات پر ملنے والے آپریشنز میں 183 اہم دہشت گردوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے

پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کے مطابق ڈیڑھ سال سے جاری آپریشن ضربِ عضب میں ڈیڑھ سال کے دوران 3400 شدت پسند ہلاک ہوئے جبکہ سکیورٹی فورسز کے 488 جوانوں اور افسران کا جانی نقصان ہوا۔

ضربِ عضب کا ایک سال

سنیچر کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغامات میں فوج کے محمکہ شعبہ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ نے بتایا کہ اب تک 11 فوجی عدالتوں کو 142 کیسز بھجوائے گئے، 55 کے فیصلے ہوئے اور 87 زیرِ سماعت ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ اب تک’ 31 اہم دہشت گردوں کو سزا دی گئی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption دہشت گردوں کی تحویل سے ملنے والے الات اور اسلحہ

لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کا کہنا ہے کہ ڈیڑھ سال کے عرصے میں آپریشن ضربِ عضب میں غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی ہے اور اب پاک افغان سرحد پر آخری علاقوں کو صاف کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کی کمر توڑی جا چکی ہے اور بہت حد تک ان کے خفیہ ٹھکانوں کو تباہ کیا جا چکا ہے۔

’ 3400 دہشت گرد ہلاک ہوئے، 837 خفیہ ٹھکانے جہاں سے وہ دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے تھے کو تباہ کیا گیا۔‘

آئی ایس پی آر کے ترجمان کے مطابق’گذشتہ 18 ماہ کے دوران خفیہ اطلاعات پر ملک بھر میں 13200 آپریشنز کیے گئے جن میں 183 اہم دہشت گرد مارے گئے اور 21 ہزار 193 کو گرفتار کیا گیا، انٹیلیجنس کی بنا پر کیے جانے والے آپریشن جاری ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR

تاہم فوج کے ترجمان نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ غیر معمولی کامیابی پاکستانی فوج، ایف سی اور رینجرز کے 488 جوانوں اور افسران کی جانوں کی قربانی کی صورت میں بھاری قیمت دے کر حاصل ہوئی۔

ضربِ عضب میں اب تک 1914 سکیورٹی اہلکار زخمی بھی ہوئے۔

اسی بارے میں