اہم اور ذمہ دار فریق افغان حکومت سے رابطے میں ہیں: خواجہ آصف

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان افغانستان میں قیام امن کے لیے سہولت کار کا کردار ادار کر رہی ہے اور اس مقصد کے لیے وہاں موجود تمام فریقوں، خصوصاً افغان حکومت کے ساتھ رابطے میں ہے۔

’چونکہ افغانستان میں امن کے لیے سب سے اہم اور ذمہ دار فریق افغان حکومت ہی ہے اس لیے فطری طور پر ہم افغان حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں۔‘

’پائپ لائن کے تحفظ کے لیے طالبان سے بات کریں گے‘

چار ممالک کے تاپی گیس پائپ لائن منصوبے کا سنگ بنیاد

خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں قیام امن کا سب سے بڑا حامی رہا ہے اور اسی لیے ہم نے افغانستان کے مسائل کے حل کے لیے افغان حکومت کے تجویز کردہ حل کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

وزارت دفاع کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر دفاع کے جمعے کے روز بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے ان کے تبصرے کو پاکستانی میڈیا کے ایک حصے نے سیاق و سباق سے ہٹ کر شائع کیا ہے جس سے ان کے بیان کے بارے میں غلط تاثر پیدا ہوا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی وزیر دفاع نے ترکمانستان سے افغانستان کے رستے پاکستان آنے والے گیس پائپ لائن کے تحفظ کے لیے تمام فریقوں کے ساتھ بات کرنے کا ذکر کیا تھا۔

واضح رہے کہ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کے اس بیان پر افغان صدارتی محل کے ترجمان نے تنقید کرتے ہوئے اسے افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا تھا۔

افغان ترجمان کا کہنا تھا کہ ترکمانستان سے آنے والی اس گیس پائپ لائن کا افغان حدود میں تحفظ ان کی حکومت کی ذمہ داری ہے۔

اسی بارے میں