کراچی میں ’طالبان کے شکاری‘

پاکستان گذشتہ کئی برسوں سے دہشت گردی کا شکار ہے۔ وہ ممالک جہاں حالیہ سالوں دہشت گرد حملوں کے نتیجے میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں، پاکستان کا نمبر عراق اور افغانستان کے بعد تیسرا ہے۔

پاکستان کو قبائلی پٹی میں طالبان کے ساتھ جنگ کرتے ہوئے ایک دہائی سے زیادہ کا عرصہ ہوگیا ہے۔ حال ہی میں طالبان کے یہ جنگجو پاکستان کے شہروں میں بھی داخل ہوگئے ہیں، جن میں کراچی سر فہرست ہے۔

میں نے کراچی پولیس کے صف اول کے اس سکواڈ کے ساتھ تین ہفتے گزارے جو ایک عرصے سے طالبان کے ساتھ نبر آزما ہونے کی وجہ سے طالبان ہنٹر یا پھر ’طالبان کے شکاری‘ کے نام سے مشہور ہو چکا ہے۔

دوپہر کے سوا ایک بجے ہیں۔ میرا فون بجتا ہے۔ دوسری جانب سینیئر سپرنٹینڈنٹ اعجاز ہیں، انھوں نے مجھے بتایا کہ ان کی ٹیم آج رات کو طالبان کے خلاف چھاپہ مارنے جا رہی ہے۔

سوا دو بجے پولیس کی گاڑیوں کا ایک قافلہ میرے ہوٹل آیا اور کچھ ہی دیر بعد میں وسطی کراچی میں واقع ایک پولیس کمپاؤنڈ میں موجود تھا۔ مجھے چھاپہ مارنے سے قبل دی جانے والی پیشگی ہدایات کے لیے جلد ہی بلا لیا گیا تھا۔

انسپکٹر اعجاز نے اپنے 24 رکنی سکواڈ سے کہا کہ ’میں ان مشتبہ افراد کو زندہ پکڑنا چاہتا ہوں۔ تم لوگ اس وقت تک فائر نہیں کرو گے، جب تک میں یا کوئی دوسرا سینیئر افسر ہدایت نہ دے۔‘

ان کی چار ہفتوں کی محنت رنگ لانے والی تھی۔ ان کا ہدف مشتبہ طالبان کا ایک اڈا تھا۔ پولیس ٹھکانے میں موجود طالبان کی فون کالز کا مستقل سراغ لگا رہی تھی۔ ان کے پاس اطلاعات تھیں کہ یہ گروہ اغوا کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

بین الاقوامی بندرگاہ کا حامل کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے۔ تقریباً ڈھائی کروڑ کی آبادی والا یہ شہرگذشتہ دو سالوں سے طالبان کی گرفت میں ہے۔ طالبان نے کراچی کے باقی تمام جرائم پیشہ گروہوں پر سبقت حاصل کر لی ہے۔

وہ اغوا برائے تاوان سے رقم بناتے ہیں، جبکہ دہشت گردی پھیلانے کے لیےٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکے ان کے پسندیدہ طریقے ہیں۔ تازہ اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ 2014 میں کراچی میں اغوا کے 132 واقعات میں تقریباً تمام میں بنیادی طور پر طالبان یا ان سے منسلک گروہ ملوث تھے۔

پولیس کی پانچ گاڑیوں پر مشتمل ہمارا قافلہ کمپاؤنڈ سے باہر نکل کر شہر کے شمال کی جانب روانہ ہو گیا۔ ہماری منزل اتحاد ٹاؤن تھا۔ کچی آبایوں، تنگ گلیوں اور غیرقانونی عمارتوں پرمشتمل اتحاد ٹاؤن کافی عرصے سے کراچی والوں کے لیے ممنوعہ علاقہ بن چکا ہے۔

اب ہم گاڑیوں میں مزید آگے نہیں جا سکتے تھے، اور مجرموں کے ٹھکانے تک پہنچے کے لیے ہمیں تنگ گلیوں سے پیدل ہی گزرنا تھا۔

وسطی کراچی کی روشنیاں ہم کہیں پیچھے چھوڑ آئے تھے، اور اس وقت ہم صرف اپنے قدموں کی چاپ، سرگوشیاں اور دور کہیں کتوں کے بھونکنے کی آوازیں سن سکتے تھے۔ ٹھکانے کو شناخت کرنے اور اس کا محاصرہ کرنے کے بعد آفیسر اعجاز نے سگنل دیا۔ لیکن اس پہلے کہ ان کی ٹیم اندر داخل ہوتی، وہاں سے گولیوں کی آواز آنا شروع ہو گئیں۔

’تمہیں چاروں طرف سے گھیر لیا گیا ہے۔ ہتھیار ڈال دو ورنہ ہم تمھیں گولی مار دیں گے۔‘

اور پھر میرے دیکھتے ہی دیکھتے اندھادھند فائرنگ شروع ہو گئی۔ سخت مقابلے کے بعد دو مشتبہ افراد کو ہتھیاروں سمیت گرفتار کر لیاگیا۔

آفیسر اعجاز نے بتایا کہ ’کسی خطرناک علاقے میں جانا آسان ہوتا ہے، لیکن وہاں سے صحیح سلامت باہر نکلنا مشکل کام ہوتا ہے۔‘

ٹیم کے ارکان ٹھکانے کوچھوڑ کر واپس گاڑیوں میں سوار ہونا شروع ہو گئے۔ کتوں کے بھونکنے کی آوازیں تیز ہوتی جا رہی تھیں، اور لوہے کی سلاخوں کو آپس میں بجانے کے شور کی بازگشت بھی سنائی دے رہی تھی۔

آفیسر اعجاز نے بتایا کہ ’طالبان علاقے میں اپنے ساتھوں اور حامیوں کو پولیس کی موجودگی کے بارے میں مطلع کرنے کرنے کے لیے یہ طریقہ استعمال کرتے ہیں۔ یہ ان کے لیے مسلح ہونے کا الارم ہے۔ میں واپسی کے سفرمیں طالبان کی اسی ترکیب سے اپنے کئی ساتھی کھو چکا ہوں۔‘

ہم طالبان کے الارم کو پیچھے چھوڑتے ہوئے اتحاد ٹاؤن سے باہر نکل آئے۔

کچھ ہی روز قبل میں سپرنٹینڈنٹ محمد اقبال کے جنازے میں شریک تھا جنھیں ان کے دفتر کے باہر طالبان نے اس وقت گولیوں کا نشانہ بنایا جب وہ 14 گھنٹے کی ڈیوٹی کے بعد واپس گھر جا رہے تھے۔ وہ گذشتہ 12ماہ میں قتل کیے جانے والے 164ویں افسر تھے۔

طالبان کے شکاری کوئی تربیت یافتہ خصوصی فورس نہیں ہے۔ ان میں سے کئی ارکان نے تو انسداد دہشت گردی کی تربیت بھی نہیں لے رکھی۔ کئی مرتبہ ان کے لیے بلٹ پروف جیکٹیں اور مسلح گاڑیاں حاصل کرنا بھی دشوار کام ہوتا ہے۔

آفیسر اعجاز نے بتایا کہ ’پاکستان کے شمالی علاقوں میں طالبان سے لڑنا آسان ہے کیونکہ وہاں آپ کا ہدف واضح ہوتا ہے، لیکن کراچی میں یہ جاننا بہت مشکل ہوتا ہے کہ اصل دشمن کون ہے۔ وہ کچی آبادیوں میں جاکر چھپ گئے ہیں۔ ہم یہاں ایک حقیقی جنگ لڑ رہے ہیں۔‘

لیکن پولیس فورس نے کچھ کامیابی بھی حاصل کی ہے۔ 2014 میں 156 پولیس افسران دہشت گرد حملوں میں ہلاک ہوئے تھے، لیکن نومبر 2015 کے اعداد و شمار کے مطابق یہ تعداد کم ہو کر 79 رہ گئی ہے۔

آفیسر اعجاز نے بتایا کہ ’طالبان کے خلاف حکومت کی کارروائی کامیاب رہی ہے اور اب طالبان ہتھیار ڈال رہے ہیں۔‘

پاکسانی فوج کی جانب سے گذشتہ سال شروع کیا جانے والے آپریشن ضرب عضب کو پاکستانی فوج کی کامیابی تصور کیا جارہا ہے۔ لیکن کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس آپریشن کے بعد انتہاپسند وزیرستان میں اپنے ٹھکانے چھوڑ کر پاکستان کے شہری علاقوں میں پہنچ گئے ہیں۔

گذشتہ سال دسمبر میں طالبان نے پشاور کے ایک سکول پر حملہ کر کے 152 افراد کو قتل کردیاتھا، جن میں 133 بچے بھی شامل تھے۔ اس کے بعد طالبان نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ یہ ضرب عضب کا جواب ہے۔

اس ظلم و بربریت نے پاکستان میں ایک بھونچال پیدا کر دیا، اور پاکستان کے ہر شہر اور قصبے میں اس کے خلاف جلوس نکالے گئے۔ اس واقعے کے بعد ہی حکومت پاکستان نے سزائے موت پر عمل درآمد سے پابندی اٹھا لی جس کی انسانی حقوق کی کئی تنظیموں نے مخالفت بھی کی۔

آفیسر اعجاز نے بتایا کہ ’عدالتوں میں طالبان کے خلاف گواہی دینا بےحد خطرناک ہے۔ بہت سے لوگ ان مقدمات میں پڑنے سے ڈرتے ہیں۔ ایک کیس کو عدالت میں دس سال سے بھی زیادہ کا عرصہ لگ جاتا ہے۔ نظام میں تبدیلی کے بغیر طالبان کو شکست دینا ناممکن ہے۔‘

رات کو گرفتار کیے جانے والی مشتبہ افراد پر اغوا اور ریاست کے خلاف مختلف پرتشدد کارروائیاں کرنے کا الزام ہے۔ وہ اب اپنے مقدمے کی سماعت کا انتظار کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں