’دہشت گردوں نے ہماری خوبصورت زندگی تباہ کر دی‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پشاور کے آرمی پبلک سکول پر طالبان کے حملے کو ایک برس پورا ہونے کو ہے لیکن اس حملے کا نشانہ بننے والوں اور ان کے اہلِ خانہ کے گھاؤ ابھی بھرے نہیں ہیں۔

اس حملے میں شدید زخمی ہونے والے احمد نواز برطانیہ کے شہر برمنگھم میں زیر علاج ہیں جہاں ان کی والدہ ثمینہ نواز بھی ان کے ساتھ موجود ہیں۔

’فوج نہیں بلکہ تعلیم دہشت گردی کو ختم کر سکتی ہے‘

ثمینہ نواز نے 16 دسمبر 2014 کو ایک ہی دن میں جہاں ایک بیٹا کھویا، وہیں دوسرا اب تک بسترِ علالت پر ہے جبکہ تیسرا بیٹا آج بھی اس دن کی خوفناک یادوں سے مکمل طور پر چھٹکارا نہیں پا سکا۔

احمد سے بات چیت کے ساتھ ساتھ میں یہ جاننے کے لیے بےچین تھا کہ اتنا سب کچھ سہنے کے بعد ثمینہ نواز زندگی سے مایوس کیوں نہیں ہوئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم بہت خوبصورت زندگی گزار رہے تھے، تین بچے، ایک اچھا وقت، لیکن ان دہشت گردوں نے ہماری زندگی تباہ کر کے رکھ دی۔‘

اس جملے کے بعد ثمینہ نواز جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور چند لمحوں کے لیے خود مجھے بھی یوں محسوس ہوا کہ دوسرا سوال پوچھنے کی سکت مجھ میں بھی نہ رہی ہو۔

Image caption احمد نواز کے بھائی حارث نواز آرمی پبلک سکول پر حملے میں ہلاک جب کہ وہ خود شدید زخمی ہو گئے تھے۔

لیکن یہ جاننا ضروری تھا کہ ان والدین میں اتنی ہمت آخر کیسے ہے جن کی زندگی شاید اب پہلے جیسی کبھی نہ ہو سکے گی۔

ثمینہ نواز کا کہنا تھا کہ ’میرا ایک بچہ شہید ہو گیا ہے اور ایک زخمی ہے اور سب سے چھوٹا کافی دنوں تک سکول نہیں جاتا تھا۔ لیکن اگر ہم ان دہشت گردوں کے ڈر سے اپنے بچوں کو گھر بٹھا دیں، تو ہمارے بچوں میں وہ شعور پیدا نہیں ہو گا۔

’ہم چاہتے ہیں کہ علم اور تعلیم کے ذریعے ان بچوں میں شعور پیدا کریں تا کہ یہ ان دہشت گردوں سے علم کے ذریعے لڑ سکیں۔‘

احمد نواز جو کہ فی الحال برمنگھم میں زیر علاج ہیں اور یہیں پر سکول بھی جاتے ہیں، یہ تمام گفتگو سن رہے تھے۔

ان کا یہ کہنا تھا کہ ’دہشتگردی کا خاتمہ صرف فوج کے بس کی بات نہیں بلکہ اسے صرف اور صرف تعلیم کے فروغ سے ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔‘

برمنگھم سے واپسی پر احمد کے والد محمد نواز کا یہ جملہ کانوں میں گونجتا رہا کہ ’خدانخواستہ وہ پھر بھی آ کر ماریں تو ہم پھر بھی اپنے بچوں کو سکول بھیجیں گے، کیونکہ یہی تو ہماری اور ان کی اصل لڑائی ہے۔‘

اسی بارے میں