’حملہ آوروں کے مددگاروں کو سزا دی جانی ضروری ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption آرمی پبلک سکول پر حملے میں ہلاک ہونے والے بچوں کے والدین منگل کو آرکائیوز لائبریری کے سبزہ زار میں پہنچے

پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملے کو بدھ کو ایک سال پورا ہو رہا ہے اور برسی کی سرکاری تقریبات سے قبل بھی پشاور میں اس سلسلے میں مختلف تقاریب منعقد ہوئی ہیں۔

ایسا ہی ایک اجتماع منگل کو آرکائیوز لائبریری کے سبزہ زار میں منعقد ہوا جہاں سکول پر حملے میں ہلاک ہونے والے بچوں کے والدین جمع ہوئے اور ذرائع ابلاغ سے بات چیت کی۔

سانحۂ پشاور کی برسی سرکاری سطح پر منانے کا اعلان

آرکائیوز لائبریری میں جمع ہونے والے افراد اپنے ساتھ بچوں کی یادوں کے علاوہ ان کے خون آلود جوتے، تصاویر، کتابیں، بیگ اور یونیفارم ساتھ لائے تھے۔

اس موقع پر حملے سے متاثرہ والدین کی تنظیم شہدا فورم کے جنرل سیکریٹری اجون ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ والدین حملے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی سے مطمئن نہیں ہیں۔

اجون ایڈوکیٹ کے بیٹے اسنفندیار اس حملے میں مارے گئے تھے انھوں نے کہا کہ ’ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ حکومت ہو یا عسکری ادارہ یا بیوروکریسی اس میں چھپے وہ لوگ جو ایسے حملہ آوروں کی مدد کرتے ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جائے اور انھیں سزا دی جائے۔‘

Image caption والدین اپنے ساتھ بچوں کی یادوں کے علاوہ ان کی تصاویر، کتابیں، بیگ اور یونیفارم بھی ساتھ لائے تھے

انھوں نے کہا کہ ’ایسے واقعات اندر کے لوگوں کی معاونت کے بغیر نہیں ہو سکتے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ والدین کو بتایا جائے کہ اب تک تفتیش میں کیا پیش رفت ہوئی ہے اور حملے میں ملوث افراد کو سر عام سزا دی جائے۔

چترال سے تعلق رکھنے والے نصراللہ کا بڑا بیٹا اس حملے میں ہلاک ہونے والوں میں شامل تھا ۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں ایسا لگتا ہے کہ ان کے گھر سے ہر روز ایک جنازہ نکلتا ہے ۔

ایک اور بچے ذوالقرنین شاہ کے والد سعید شاہ نے بتایا کہ ذوالقرنین ان کا سب سے چھوٹا بیٹا تھا اور اب اس کے جانے کے بعد وہ خود’ کسی کے کام کے نہیں رہے‘۔

سعید شاہ پراپرٹی کا کام کرتے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ بیٹے کی ہلاکت کے بعد سے ان کا دماغ کام نہیں کرتا اس لیے کاروبار چھوڑ دیا ہے اور اب وہ فارغ ہیں۔

حملے میں ہلاک ہونے والے صاحبان درانی کے والد ضابط درانی کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ بیٹے کی بہت یادیں ہیں اور اس پورے سال میں ان کی کوشش تھی کہ وہ اپنے بیٹے کو خواب تو کم سے کم دیکھ لیں لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔

موقع پر موجود چھٹی جماعت کی طالبہ عفیفہ ملک نے بتایا کہ ان کا بڑا بھائی اسامہ طاہر اعوان اس دنیا میں اب نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’بھائی ہر لمحہ یاد آتے ہیں۔ صبح سکول جانے کے لیے تیار ہوتی ہوں تو بھائی یاد آتے ہیں۔ کبھی ہم شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر لڑتے تو کبھی گاڑی کی اگلی سیٹ پر بیٹھنے کے لیے لڑتے تھے۔‘

اسی بارے میں