پشاور واقعہ انسانیت کے خلاف جرم: قومی اسمبلی میں قرارداد

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے آرمی پبلک سکول میں طالبان دہشت گردوں کے ہاتھوں 141 افراد کی ہلاکت کے واقعے کی پہلی برسی پر قومی اسمبلی نے پشاور واقعے کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا ہے۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے وزیر زاہد حامد کی جانب سے پیش کی گئی اس قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔

اے پی ایس حملے کے ایک برس بعد: خصوصی ضمیمہ

سخت سکیورٹی میں سانحۂ پشاور کی پہلی برسی

’فوج بتائے کہ طلبا کے تحفظ میں غفلت کہاں ہوئی‘

’حملہ آوروں کے مددگاروں کو سزا ہونا ضروری ہے‘

قرارداد میں اس بات کو سراہا گیا کہ اس ہولناک حملے کے بعد ہماری مسلح افواج کی طرف سے شروع کیا گیا آپریشن کامیاب ثابت ہوا ہے۔

بحث میں حصہ لیتے ہوئے ارکان نے کہا کہ 16 دسمبر کے دن کو ہمیشہ سیاہ دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ اسی دن 1971 میں پاکستان دولخت ہوا اور بنگلہ دیش قائم ہوا۔

انھوں نے کہا کہ اس حملے میں پوری قوم اور سیاسی قیادت کو متحد کر دیا اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہمارے عزم کو مضبوط کیا۔

اس سے قبل پشاور کے آرمی پبلک سکول میں طالبان دہشت گردوں کے ہاتھوں 141 افراد کی ہلاکت کے واقعے کی پہلی برسی بدھ کو سرکاری سطح پر منائی گئی۔

16 دسمبر 2014 کو ہونے والے اس حملے میں ہلاک ہونے والوں کی اکثریت طلبہ کی تھی اور برسی کی مرکزی تقریب بھی سکول میں منعقد کی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیرِ اعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ انسانوں کا مکالمہ ان سے ہو سکتا ہے جو انسانوں کی زبان سمجھتے ہوں۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے 16 دسمبر کو ’قومی عزم تعلیم‘ کے دن کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ دن ہمارے ماضی کا حصہ تو ہے ہی لیکن وہ اسے حال اور مستقبل کا حصہ بھی بنانا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 16 دسمبر 2014 کا المیہ ہمارے دلوں کو چھلنی کر گیا لیکن ہمیں ایک کر گیا۔

وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ’تعلیم کے دشمن پاکستان کے دشمن ہیں۔ ہم تعلیم کو ترجیح بنائیں گے۔ ہم نئی نسل کو پرامن، ترقی کی راہ پر گامزن پاکستان دیں گے۔‘

وزیرِ اعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستانی عوام کا دل دکھ اور غم کے احساس سے بوجھل ہے۔ ’اس سانحے نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا اور سب کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا کیا کہ کیا انسانیت سے عاری ایسے درندے کسی نرمی کے مستحق ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ایک سال پہلے بھی پشاور آتے ان کے ذہن میں یہ خیال پختہ ہو رہا تھا کہ ’انسانوں کا مکالمہ ان سے ہو سکتا ہے جو انسانوں کی زبان سمجھتے ہوں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’پشاور کی زمین پر قدم رکھنے سے پہلے مجھے معصوم بچوں کے لہو نے ایک فیصلے پر پہنچا دیا تھا۔ ہم پوری قوت کے ساتھ دہشت گردی پر ضرب لگائیں گے۔‘

انھوں نے قومی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا: ’جن کے تعاون سے آئینی ترمیم کی فوجی عدالتیں بنائیں اور نیشنل ایکشن پلان بنایا۔ اور اس پختہ عز کے ساتھ میدان میں اترے کہ اس سرزمین کو دہشت گردوں سے پاک کر کے دم لیں گے۔‘

وزیرِ اعظم نواز شریف نے طلبہ و طالبات کو مخاطب کر کے کہا کہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید بچوں کا لہو بول رہا ہے۔ ضربِ عضب کی ہر کارروائی میں لہو بول رہا ہے۔ آپریشن ضربِ عضب نے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ہے، ن کی پناہ گاہیں اور انفراسٹرکچر ٹوٹ چکا ہے۔ بہت جلد دہشت گردی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ ملک کا گوشہ گوشہ پر امن ہو گا۔‘

وزیرِ اعظم نے آرمی پبلک یونیورسٹی کے قیام کا اعلان کیا۔

پشاور کے سکول میں جاری مرکزی تقریب میں پاکستان کے وزیرِاعظم نواز شریف، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور برّی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے علاوہ اہم سیاسی شخصیات، غیر ملکی سفرا اور ہلاک شدگان کے لواحقین شریک ہوئے۔

اسی بارے میں