’میرا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے خارج کیا جائے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ماڈل ایان علی کو رواں سال مارچ میں اسلام آباد کے بےنظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ پانچ لاکھ امریکی ڈالر لے کر دبئی جا رہی تھیں۔

پاکستان کی ماڈل ایان علی نے ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے اپنا نام خارج کرنے کے لیے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ انھیں والدہ کی تیمارداری کرنے دبئی جانا ہے۔

ایان علی بدھ کو سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس نعمت اللہ پھلپوٹو اور جسٹس عبدالمالک گدی کی عدالت میں پیش ہوئیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما لطیف کھوسہ نے ایان علی کی پیروی کی اور عدالت کو بتایا کہ ان کی موکلہ دبئی جانا چاہتی ہیں۔

ماڈل ایان علی پر فرد جرم عائد

ایان علی کی جیل میں بی کلاس کی درخواست مسترد

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ دبئی میں ان کی ماں رہتی ہیں اور ان کا وہاں بزنس بھی ہے اور وہ ایک پروفیشنل ماڈل کے طور پر کام کرتی رہی ہیں۔

ماڈل ایان علی کو رواں سال مارچ میں اسلام آباد کے بےنظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ پانچ لاکھ امریکی ڈالر لے کر دبئی جا رہی تھیں۔

پاکستانی قوانین کے مطابق کوئی بھی شخص صرف دس ہزار امریکی ڈالر تک مالیت کی کرنسی ہی اپنے ساتھ بیرون ملک لے کر جا سکتا ہے۔

لطیف کھوسہ نے عدالت کو بتایا کہ ان کی موکلہ کی اس مقدمے میں ضمانت ہو چکی ہے جبکہ اب وہ نہ کسی مقدمے میں مطلوب اور نہ ہی مفرور ہیں۔

ان کے مطابق عدالت نے ان کا پاسپورٹ بھی واپس کرنے کا حکم جاری کیا ہے تاہم حکومت ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے خارج نہیں کیا جس وجہ سے وہ بیرون ملک سفر نہیں کر سکتیں۔

ایان علی کی درخواست میں وفاقی وزارت داخلہ اور وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کو فریق بنایا گیا ہے۔

عدالت نے متعلقہ محکموں کو نوٹس جاری کرکے 23 دسمبر کو جواب طلب کر لیا ہے۔

پاکستان کی تاریخ میں ایان علی پہلی خاتوں ملزمہ ہیں جو چار ماہ تک اس مقدمے میں جیل میں رہیں جبکہ کسٹم حکام کے مطابق اس سے پہلے دو خواتین کو گرفتار کیا گیا تھا لیکن ان کی چند روز بعد ہی ضمانت ہو گئی تھی۔

اسی بارے میں