اسلامی ممالک کا فوجی اتحاد:’مزید تفصیلات کا انتظار ہے‘

پاکستان نے شدت پسندی کے خلاف سعودی عرب کی قیادت میں بننے والے 34 ملکی اتحاد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس بارے میں مزید تفصیلات کا انتظار کر رہا ہے تاکہ یہ طے کر سکے کہ وہ اس میں کس حد تک حصہ لے سکتا ہے۔

پاکستانی وزارت خارجہ نے بدھ کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان شدت پسندی اور دہشت گردی کے خلاف تمام علاقائی اور بین الاقوامی کوششوں کی مستقل حمایت کرتا رہا ہے۔

دہشت گردی کے خلاف 34 اسلامی ممالک کا فوجی اتحاد

’اتحاد سے دولت اسلامیہ کے خلاف سنیوں کا کردار بڑھے گا‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سال کویت میں ہونے والی اسلامی تعاون کی تنظیم میں اسلامی ملکوں کے وزرائے خارجہ کے 42ویں اجلاس میں اس بات کا اعادہ کیا گیا تھا کہ اقوام متحدہ اور اسلامی ملکوں کے تعاون کی تنظیم کی قراردادوں کی روشنی میں دہشت گردی اور شدت پسندی سے نمٹا جائے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان شدت پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں علاقائی اور بین الاقوامی کوششوں کی مسلسل حمایت کرتا رہا ہے۔

بیان میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان برادرانہ تعلقات کا بھی ذکر کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں اور دونوں ممالک دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ سعودی وزیر دفاع نے منگل کے روز میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے اس اتحاد کا اعلان کیا تھا جس میں پاکستان کے علاوہ ترکی اور ملائیشیا بھی شامل ہے۔

یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے سعودی عرب نے جب پاکستان کو بھی دعوت دی تھی تو حکومت حزب مخالف کی جماعتوں کے دباؤ میں یہ معاملہ پارلیمنٹ میں لے کر آ گئی تھی۔

تاہم پارلیمنٹ نے پاکستانی افواج کو یمن میں باغیوں کے خلاف کارروائی کے لیے اتحادی افواج کا حصہ بننے کی اجازت نہیں دی تھی۔ پارلیمنٹ کا کہنا تھا کہ سعودی عرب پر حملے کے صورت میں پاکستانی افواج سعودی عرب کی حفاظت کریں گی۔

اسی بارے میں