’20 فیصد پاکستانی بچے تاحال تعلیم سے دور‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نجی سکولوں کے مقابلے سرکاری سکولوں میں داخل طلباء کی انگریزی، ریاضی اور ان کی مادری زبان کے تعلیمی معیار کی حالت نا گفتہ بہ رہی

پاکستان میں تعلیم کی صورتحال پر کام کرنے والے ایک غیر سرکاری ادارے کی سالانہ رپورٹ کے مطابق اگرچہ ملک میں سکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد میں کچھ کمی آئی ہے تاہم اب بھی چھ سے 16 سال کی عمر کے 20 فیصد بچے سکول نہیں جا رہے۔

’اثر’ کی سالانہ رپورٹ برائے سال 2015 کے مطابق پاکستان میں سنہ 2014 میں سکول نہ جانے والی بچوں کا تناسب 21 فیصد تھا جو ایک فیصد بہتری کے بعد اس سال 20 فیصد رہا۔

ان میں سے کبھی بھی سکول نہ جانے والے بچوں کی شرح 14 فیصد اور مختلف وجوہات کی بناء پر سکول چھوڑنے والے بچوں کی شرح 6 فیصد تھی۔

یہ سروے پاکستان کےتقریبا 150 دیہی اور 21 شہری حلقوں میں کیا گیا جس میں چھ سے 16 سال کی عمروں کے دو لاکھ 20 ہزار سے زیادہ بچوں کی زبان (اردو، سندھی، پشتو) سمیت انگریزی اور ریاضی میں مہارت کے حوالے سے جائزہ لیا گیا۔

رپورٹ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ صوبہ سندھ میں پرائمری سکولوں میں داخلوں کی شرح سب سے کم رہی۔

صوبے میں تعلیم کی دگرگوں حالت پر بات کرتے ہوئے ’اثر‘ کی کارکن بیلا رضا جمیل نے کہا کہ صوبے میں اب بھی اچھی حکمرانی کے بہت سے مسائل ہیں اور اب بھی وہاں جاگیرداری نظام پایا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اب بھی سندھ میں سکولوں کی حالت بہتر بنانے اور اساتذہ کو لانے کی ضرورت پر زور نہیں دیا جا رہا۔‘

رپورٹ کہتی ہے کہ ویسے توسرکاری سکولوں کی نسبت نجی سکولوں میں طلباء کی کارکردگی بہتر رہی لیکن یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ والدین نےنجی سکولوں میں پڑھنے والے پانچ فیصد بچوں کو وہاں نکال کر سرکاری سکولوں میں داخل کروایا۔

اس کے علاوہ 2015 میں سرکاری سکولوں میں چھ سے 16 سال عمر کے بچوں کے داخلوں کی شرح میں بھی چھ فیصد اضافہ ہوا۔

اس سلسلے میں بیلا رضا جمیل کا کہنا تھا کہ ’ہمیں حکومتی سطح پہ ایک تحریک نظر آ رہی ہے اور وہ جو بھی تھوڑا بہت بجٹ خرچ کر رہے ہیں اس کی شفافیت کو یقینی بنا رہے ہیں جو ایک خوش آئند بات ہے۔‘

رپورٹ میں تعلیم کے شعبے میں صوبوں کی کارکردگی اور حکام کی جانب سے مختلف اقدامات جیسے کہ بائیومیٹرک نظام کی تنصیب وغیرہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی حاضری میں اضافہ ہوا ہے اور اس سال بچوں میں سیکھنے کے رجحان میں 10 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا تاہم مجموعی صورتحال اب بھی بہت خراب ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 2015 میں بھی لڑکیوں کے سکولوں میں داخلے کی شرح میں بھی کوئی خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا

رپورٹ کے لیے کیے گئے سروے کے مطابق نجی سکولوں کے مقابلے سرکاری سکولوں میں داخل طلباء کی انگریزی، ریاضی اور ان کی مادری زبان کے تعلیمی معیار کی حالت نا گفتہ بہ رہی اور پانچویں جماعت کے تقریباً نصف فیصد بچے دوسری کلاس کی سطح کی اردو، سندھی اور پشتو کہانی نہیں پڑھ سکے۔

اس کے علاوہ پانچویں جماعت کے بچے انگریزی کے وہ فقرے یا ریاضی کے وہ بنیادی سوالات حل کر پائے جو دراصل دوسری جماعت کے طلبا کو آنے چاہیے تھے۔

رپورٹ کے مطابق 2015 میں لڑکیوں کے سکولوں میں داخلے کی شرح میں بھی کوئی خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا اور نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ امیر اور غریب کے فرق سے قطع نظر دونوں طبقات میں لڑکیوں کو تعلیم دلوانے کا رجحان کم ہی پایا جاتا ہے۔

اسلام آباد میں رپورٹ کی تقریبِ رونمائی میں شریک بلوچستان سے سینیٹر حاصل بزنجو نے کہا کہ ’18ویں ترمیم کے بعد تعلیم کا شعبہ صوبوں کے سپرد ہے اور پچھلے چند سالوں میں تعلیم کی صورتحال بہتر بنانے سے متعلق صوبوں کے درمیان صحت مندانہ مقابلہ ہورہا ہے لیکن اس کے باوجود اس صدی میں یہ ملک تعلیم یافتہ ہوتا نظر نہیں آ رہا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ملک میں مدرسہ کلچر کی وجہ یہ ہے کہ یہ فیصلہ نہیں کیا گیا کہ تعلیم دینی ہے۔ سکولوں میں طلبا کی تعداد کم اور مدرسوں میں بڑھ رہی ہے۔ مدرسے میں بچوں کو روٹی ملتی ہے اس لیے لوگ اپنے بچوں کو مدرسوں میں ڈال دیتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سینیٹر بزنجو نے کہا کہ سکولوں میں طلبا کی تعداد کم اور مدرسوں میں بڑھ رہی ہے

واضح رہے کہ پاکستان پچھلے پندرہ سالوں میں اقوام متحدہ کے اُن آٹھ اہداف کو حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے جو ملینیئم ڈیویلپمنٹ گولز کے تحت تمام ترقی پذیر ممالک کے لیے طے کیے گئے تھے۔ ان اہداف میں ایک بنیادی ہدف پرائمری تعلیم تھی۔

آئندہ 15 برسوں کے لیے اقوام متحدہ کے طے کردہ اہداف کے حصول کے لیے حکومت کتنی سنجیدہ ہے اور کیا منصوبہ بندی کر رہی ہے، اس سوال پر وفاقی وزیر بلیغ الرحمان بولے کہ ’ان اہداف کو قومی اہداف قرار دیا گیا۔ اس کی وجہ یہ تاثر ختم کرنا ہے کہ یہ کوئی غیرملکی ایجنڈا نہیں بلکہ ہمارا اپنا ایجنڈا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’وفاق اور تمام صوبے اپنے بجٹ کا خاطر خواہ حصہ تعلیم پر خرچ کررہے ہیں اور ہم طے کرچکے ہیں کہ نئے اہداف کو بھر پور طریقے سے حاصل کرنا ہے۔‘

اسی بارے میں