’سپریم کورٹ نے انتخابات کروائے وہی اختیارات دلوائے‘

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption بلدیاتی انتخابات جیتنے کے بعد ایم کیو ایم نے وسیم اختر کو کراچی میں اپنے میئر کے امیدوار کے طور پر نامزد کیا ہے

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے نامزد میئر وسیم اختر نے چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آئین کی شق 140 اے کے تحت بلدیاتی اداروں تک اختیارات کی منتقلی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

بی بی سی اردو سروس کو لندن میں دیے گئے ایک انٹرویو میں ایم کیو ایم کے رہنما نے کہا کہ بلدیاتی اداروں کے انتخابات بھی سپریم کورٹ کے کہنے پر کرائے گئے ہیں اور اب سپریم کورٹ کو ہی اختیارات کے انتقال کو یقینی بنانا چاہیے۔

رینجرز کے اختیارات، وفاق کی سندھ حکومت کو وارننگ

پنجاب میں ن لیگ، کراچی میں ایم کیو ایم

کراچی میں ترقیاتی کاموں اور عوام کی خدمت کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا ’کراچی میں ترقیاتی اور فلاحی کام شروع کرنے سے پہلے مجھے تو بلدیاتی اداروں کے اختیارات اور بجٹ کے حصول کی کوشش کرنی ہے۔‘

یاد رہے کہ انتخابات سے قبل بلدیاتی اداروں کے قانون میں ان کے اختیارات کو محدود اور مالی وسائل کو کم کر دیا گیا تھا۔

وسیم اختر نے کہا کہ وہ آئین کی شق 140 اے کے تحت بلدیاتی اداروں کے لیے اختیارات اور بجٹ حاصل کرنے کے لیے مقننہ، عدلیہ اور عوام سے رجوع کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ سب سے پہلے ایم کیو ایم منتخب ایوانوں میں یہ بات اٹھائے گی کہ آئین کے تحت بلدیاتی اداروں تک اختیارات کی منتقل ہونی چاہیے۔

’اگر منتخب ایوانوں میں ایم کیو ایم کی آواز نہ سنی گئی تو عدلیہ کا دورازہ کھٹکایا جائے گا اور وہاں سے بھی انصاف نہ ملا تو عوام کے پاس واپس جائیں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ آرٹیکل 140 اے واضح طور پر کہتا ہے کہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ہونی چاہیے اور اگر اس پر عملدرآمد ہوتا ہے تو انھیں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔

انھوں نے کہا اعلیٰ عدالتیں بھی آئین کے اس آرٹیکل کی نگہبان ہیں اور انھیں اس پر عملدرآمد کو یقینی بنانا چاہیے۔

وسیم اختر نے رینجرز کو دیے گئے اختیارات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اگر صورت حال اس حد تک بگڑ گئی کہ جمہوریت اور منتخب اداروں کی بقا کا سوال پیدا ہو گیا تو وہ جمہوریت اور جمہوری اداروں کا ساتھ دیں گے۔

انھوں نے کہا کہ کراچی میں آپریشن کرنے کا مطالبہ ایم کیو ایم نے ہی کیا تھا لیکن اس آپریشن کو صرف کراچی تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔

وسیم اختر نے کہا کہ رینجرز کے آپریشن پر ایم کیو ایم کے تحفظات ہیں اور انھوں نے ارباب اختیار کو اپنے تحفظات اور شکایات سے آگاہ بھی کیا ہے۔ ’ہم چاہتے ہیں کہ کراچی سے بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان اور ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کا خاتمہ ہو۔‘

رینجرز کی طرف سے ان پر دائر ہرجانے کے دعوے پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ فی الوقت ان کے ذہن میں صرف اور صرف اپنی نئی ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہونے کا سوال سوار ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ پیچھے مڑ کر نہیں دیکھنا چاہتے اور اپنا کام کرنا چاہتے ہیں۔

کراچی کے مسائل میں ان کی ممکنہ ترجیحات پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پانی اور صفائی کا مسئلہ بڑے اہم ہیں اور سب سے پہلے وہ ان پر توجہ دینا چاہیں گے۔

پنجاب اور خاص طور پر لاہور میں ہونے والے ترقیاتی کاموں پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ان کے ووٹر سمجھتے ہیں لاہور میں وزیر اعلیٰ کو اپنے وزیر اعظم کی بھرپور معاونت حاصل ہے اور ان کا لاہور سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔

اسی بارے میں