’ کراچی میں دولتِ اسلامیہ کی ہمدرد خواتین کا گروہ سرگرم‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سی ٹی ڈی نے جمعے کو صفورہ بس حملے کے مقدمے میں مزید تین گرفتاریاں بھی ظاہر کی ہیں جن میں سے ایک شہر کے نجی تعلیمی ادارے کے سربراہ ہیں

کراچی میں انسداد دہشت گردی پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ شہر میں داعش(شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کا ایک اور نام) کی حمایتی خواتین کا ایک گروہ سرگرم ہے جو خواتین کی ذہن سازی اور چندہ اکٹھا کرنے کے علاوہ شدت پسندوں کی شادیوں کا انتظام کرتا ہے۔

یہ بات کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ کے انچارج راجہ عمر خطاب نے جمعے کی شب کراچی میں ایک پریس کانفرنس میں بتائی۔

’صفورہ بس حملے کے ملزمان کا تعلق دولت اسلامیہ سے ہے‘

انھوں نے دعویٰ کیا کہ خواتین کے اس نیٹ ورک کی سرپرستی صفورہ بس حملے کے مرکزی ملزم سعد عزیز عرف ٹن ٹن کی بیگم اور ساس، صفورہ واقعے کے سہولت کار خالد یوسف باری کی اہلیہ اور اسی واقعے کی ایک اور ملزم قاری توصیف کی اہلیہ کرتی ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دوران تفتیش خالد یوسف نے انکشاف کیا ہے ان کی اہلیہ نے الذکرہ اکیڈمی کے نام سے ایک ادارہ بنا رکھا ہے، جس کا کوئی دفتر نہیں ہے لیکن اس میں 20 سے زائد صاحب حیثیت خواتین شامل ہیں جو درس و تدریس کی آڑ میں نہ صرف ذہن سازی کرتی ہیں بلکہ دہشت گرد تنظیموں کو زکوٰۃ، خیرات اور چندے کی صورت میں فنڈز فراہم کرتی ہیں۔

راجہ عمر خطاب نے دعویٰ کیا کہ ’خالد یوسف باری کی اہلیہ خواتین میں ایک یو ایس بی تقسیم کرتی ہیں جس میں داعش کے متعلق ویڈیوز بھی ہوتی ہیں، یہ خواتین فنڈز اکٹھا کرنے کے علاوہ دہشت گردوں کی شادیاں بھی کرواتی ہیں۔‘

سی ٹی ڈی نے جمعے کو اس کیس میں مزید تین گرفتاریاں بھی ظاہر کی ہیں اور بتایا ہے کہ گرفتار کیے گئے سلیم احمد، محمد سلیمان سعید اور عادل مسعود بٹ کا تعلق القاعدہ سے ہے اور تینوں کو خالد یوسف باری کی تفتیش کی روشنی میں گرفتار کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ صفورہ واقعے کے ملزمان کی مالی معاونت کے الزام میں شیبا احمد اور پی آئی اے کے سابق ملازم خالد یوسف سمیت آٹھ مرکزی ملزمان پہلے ہی پولیس کی حراست میں ہیں۔

ایس پی راجہ عمر خطاب نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ملزم عادل مسعود بٹ امریکہ سے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور صاحب حیثیت شخص ہے اور شہر میں ایک تعلیمی ادارہ چلاتا ہے۔

’عادل مسعود نے وطن واپسی کے بعد اپنے پارٹنرز کے ساتھ مل کر 1994 میں کالج آف اکاؤنٹنسی اینڈ مینجمنٹ سائنس کی بنیاد رکھی تھی۔ اس وقت اس ادارے کی تین برانچیں ہیں جن میں دو ہزار سے زائد طالبعلم زیر تعلیم ہیں۔‘

سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ سنہ 2000 میں عادل مسعود نے تنظیم اسلامی میں شمولیت اختیار کی، اسی دوران ان کی شیبا احمد اور خالد سیف کی معرفت ڈاکٹر اکمل وحید سے ملاقات ہوئی جنھیں وہ فنڈر بھی فراہم کرتے تھے۔

Image caption صفورہ واقعے کے ملزمان کی مالی معاونت کے الزام میں شیبا احمد اور پی آئی اے کے سابق ملازم خالد یوسف سمیت آٹھ مرکزی ملزمان پہلے ہی پولیس کی حراست میں ہیں

واضح رہے کہ ڈاکٹر اکمل اور ان کے بھائی ارشد وحید کو کراچی میں کور کمانڈر پر حملے کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا بعد میں ہائی کورٹ نے ان کی رہائی کا حکم سنایا۔ چند سال قبل ڈاکٹر ارشد وحید وزیرستان میں امریکی میزائل حملے میں مارے گئے تھے۔

راجہ عمر کے مطابق گرفتاری کے خدشات کی وجہ سے ڈاکٹر اکمل نے عادل مسعود کو چندہ عمر عرف جلال چانڈیو کو دینے کی ہدایت کی تھی اور وہ انھیں این ای ڈی یونیورسٹی کی پارکنگ میں فنڈز دیا کرتے تھے۔

یاد رہے کہ پولیس کے مطابق عمر عرف جلال چانڈیو اس وقت کراچی میں القاعدہ کی قیادت کر رہے ہیں۔

سی ٹی ڈی پولیس کے مطابق گرفتار کیے گئے دوسرے شخص سلیم احمد نے 1992 میں مساجد کے باہر ایک جہادی تنظیم کے لیے چندہ اکٹھا کرنا شروع کیا تھا اور اسی دوران ان کا صفورہ واقعے کے ماسٹر مائنڈ عبداللہ یوسف، ان کے بھائی فرحان یوسف سے ملاقات ہوئی تھی اور 2013 سے یہ مسلسل رابطے میں تھے۔

راجہ عمر خطاب کے مطابق گرفتار تیسرا ملزم سلیمان سعید عبداللہ یوسف کا بہنوئی ہے اور اس کا تعلق دارالفنون ٹرسٹ سے بھی ہے وہ اس کو بھی فنڈز فراہم کرتا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’ان گرفتاریوں کی روشنی میں ایک بات واضح ہو رہی ہے کہ ان جہادی تنظیموں نے تعلیمی اداروں میں بھی اپنے نیٹ ورکس قائم کر لیے ہیں اور اسے مزید فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

اسی بارے میں