سندھ میں رینجرز کے خصوصی اختیارات میں توسیع

رینجرز تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رینجرز کے اختیارات کے معاملے پر وفاق اور سندھ حکومت میں تناؤ ابھی تک موجود ہے

وفاقی حکومت نے سندھ میں رینجرز کے قیام کی مدت میں دو ماہ کی توسیع کر دی ہے۔ یہ توسیع انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت کی گئی ہے۔ جس کے تحت رینجرز حکام کے پاس شدت پسندوں، کالعدم تنظیموں اور سماج دشمن عناصر کے خلاف کارروائی کا مکمل اختیار ہوگا۔

منگل کے روز وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی صدارت میں وزارت داخلہ کے حکام کا اجلاس ہوا۔

رینجرز کے اختیارات میں مشروط توسیع کی قرارداد منظور

گورنر راج لگائیں مگر دھمکیاں نہ دیں: خورشید شاہ

اجلاس میں سندھ حکومت کی طرف سے رینجرز کے قیام میں توسیع کے بارے میں وفاقی حکومت کو بھیجی جانے والی سمری پر غور کرنے کے بعد فیصلہ دیا ہے۔

وزارت داخلہ کے ایک اہلکارکے مطابق اجلاس میں سندھ کی حکومت کی طرف سے رینجرز کے قیام میں مزید دو ماہ کی توسیع کی درخواست منظور کر لی گئی ہے تاہم اس سمری کے ساتھ سندھ کی صوبائی اسمبلی کی طرف سے رینجرز کے اختیارات میں کمی سے متعلق پاس ہونے والی قرارداد مسترد کر دی گئی۔

دوسری جانب سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے بھیجی گئی سمری مسترد کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے۔

وزارتِ داخلہ کے اہلکار کے مطابق وفاقی حکومت نے اس ضمن میں موقف اختیار کیا ہے کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ وفاق کا بنایا ہوا قانون ہے اور کسی بھی صوبائی حکومت کو اس قانون میں تبدیلی کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

وفاق کی جانب سے سندھ حکومت کی قرارداد مسترد کرنے پر سندھ نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ سندھ کے مشیر اطلاعات مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ ’مسلم لیگ نواز کی حکومت تو ہمیشہ صوبوں اور وفاق کے درمیان تنازعات پیدا کرتی آئی ہے۔ وفاق کا سندھ اسمبلی کی قرارداد کو رد کرنا غیر قانونی ہے۔‘

سندھ کے مشیر اطلاعات نے بتایا کہ ایک صوبے کی حاکمیت اور منتخب حکومت کے اختیار کو کیسے ختم کیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 147 کے تحت صوبے کے پاس اختیار ہے کہ وہ مشروط اور غیر مشروط اختیارات دے۔

یاد رہے کہ سندھ کی صوبائی اسمبلی نے رینجرز کے اختیارات محدود کرنے سے متعلق قرارداد میں کہا تھا کہ سندھ رینجرز صوبائی حکومت کے کسی بھی دفتر یا کسی ادارے پر چیف سیکریٹری سے پیشگی تحریری اجازت کے بغیر چھاپہ نہیں مار سکیں گے اور نہ ہی وہ پولیس کے علاوہ کسی اور ادارے کی معاونت کریں گے۔

قرارداد کے مطابق رینجرز ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان اور دہشت گردی کی روک تھام کے لیے کارروائیاں کر سکیں گے۔

کراچی میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن کے لیے رینجرز کو پولیس کے اختیارات بھی دیے گئے تھے جس کی مدت رواں ماہ پانچ دسمبر کو ختم ہوگئی تھی۔

صوبائی حکومت اور رینجرز حکام کے درمیان تعلقات میں تناؤ پیٹرولیم کے سابق مشیر اور سابق صدر آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری کے بعد پیدا ہوا۔

رینجرز کے اختیارات کے معاملے پر وفاق اور سندھ حکومت میں تناؤ ابھی تک موجود ہے جبکہ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورت حال جاری رہی تو ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔

اسی بارے میں