فاٹا کی اقلیتیوں سے اظہار یکجہتی

تقریب میں شریک خواتین
Image caption فاٹا میں جاری فوجی آپریشنوں اور شدت پسند تنظیموں کی کارروائیوں کی وجہ سے اقلیتی خاندان گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں گذشتہ تقریباً آٹھ سالوں کے دوران شدت پسندوں تنظیموں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور کمزور حکومتی عملداری کی وجہ سے عام لوگوں کے ساتھ ساتھ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والی اقلیتیں بھی کئی قسم کے مشکلات کا شکار رہی ہیں۔

فاٹا میں جاری فوجی آپریشنوں اور شدت پسند تنظیموں کی کارروائیوں کی وجہ سے اب تک سینکڑوں اقلیتی خاندان گھر بار چھوڑ کر دوسرے شہروں میں پناہ لینے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

قبائلی علاقوں میں خیبر ایجنسی اور اورکزئی واحد ایسے مقامات ہیں جہاں سے نہ صرف اقلیتوں کو بڑی تعداد میں زبردستی بے دخل ہونے پر مجبور کیا گیا بلکہ انھیں کروڑوں روپے کی جائیداد سے بھی ہاتھ دھونا پڑا۔

تاہم اقلیتی برادری کے تحفظ اور ان سے اظہار یکجہتی کے لیے ہلال احمر پاکستان، فاٹا کی جانب سے کرسمس کے مناسبت سے پشاور میں ایک رنگارنگ تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں فاٹا اور خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے عیسائیوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہلال احمر فاٹا کے چیئرمین اکرم اللہ جان کوکی خیل نے کہا کہ بدقسمتی سے کچھ عرصے سے اقلیتی برادری پاکستان میں مختلف گروہوں کی جانب سے نشانے پر ہے جس سے وہ انتہائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

انھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت اور بالخصوص گورنر خیبر پختونخوا سردار مہتاب احمد خان نے فاٹا میں مقیم اقلیتوں کے تحفظ کے لیے کئی قسم کے اقدامات کیے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ قبائلی علاقوں کے اقلیتی نمائندوں کو ’ قبائلی ملک‘ کا درجہ دیا گیا ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا۔

انھوں نے کہا کہ ملک میں رہنے والے تمام مذاہب کے افراد خالصتاً پاکستانی ہیں جن کے آبا و اجداد نے اس ملک کو بنانے میں بڑی قربانیاں دی ہیں اور اسے کسی بھی صورت میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

Image caption ہلال احمر پاکستان، فاٹا نے یہ تقریب منعقد کی

تقریب کے مہمانِ خصوصی اور جنوبی وزیرستان سے منتخب رکن قومی اسمبلی غالب خان وزیر نے کہا کہ دنیا میں شاید فاٹا وہ واحد ایسا علاقہ ہے جہاں اقلیتوں کو سب سے زیادہ عزت دی جاتی ہے اور انھیں مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ شدت پسندی کی وجہ سے فاٹا کی صورت حال میں کچھ تبدیلی آئی لیکن اب وہاں حالات پھر سے امن کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

ان کے مطابق قبائلی روایات ہی ایسی ہیں جو غیر مذہب کے افراد کے لیے امن کا پیغام اور تحفظ کی ضمانت ہیں اور قبائل ان روایات پر ہر دور میں پوری طرح کاربند رہے ہیں۔

تقریب سے اقلیتوں کے نمائندے عظیم غوری، فاٹا یوتھ رہنما مہرین آفریدی اور دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔

تقریب میں کرسمس کے مناسبت سے عیسائی بچوں میں تحائف بھی تقسیم کیے گئے۔

اسی بارے میں