پورس کا حملہ یا بااثر افراد کو بچانے کا حربہ؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کراچی میں گذشتہ دو برسوں کے دوران رینجرز کی قیادت میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن جاری ہے

پاکستان کے شہر کراچی میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف جاری آپریشن میں رینجرز کو دیے گئے خصوصی اختیارات میں توسیع پر وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان قانونی اور سیاسی بحران ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔

پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ کے بدھ کو ہونے والے اجلاس میں بھی وفاق اور صوبے کے درمیان یہ بحران کارروائی پر حاوی رہا جہاں پیپلز پارٹی نے اجلاس کا بائیکاٹ کرتے ہوئے کہا کہ وفاق نے پورس کے ہاتھیوں کی طرح سندھ پر حملہ کیا ہے اور یہ حملہ پورس کے ہاتھیوں کی طرح ہی ناکام ہوگا۔

گورنر راج لگائیں مگر دھمکیاں نہ دیں: خورشید شاہ

سندھ کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت بالخصوص وفاقی وزارتِ داخلہ کا اس متنازعہ فیصلے سے صوبہ آئینی اور سیاسی تصادم کی جانب بڑھ رہا ہے۔

سینیٹر فرحت اللہ بابر کا کہنا ہے رینجرز کے اختیارات میں کمی نہیں کی گئی ہے وہ دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف پہلے کی طرح کارروائیاں کر سکتی ہے لیکن اگر دہشت گردی کے ساتھ مالی معاونت ہو تو انھیں کارروائی سے قبل وزیر اعلیٰ سے اجازت طلب کرنا ہو گی۔‘

دو سال کے بعد رینجرز کے اختیارت میں کمی کرنے کے بارے میں فرحت اللہ بابر نے کہ ’اگست کے بعد رینجرز نے صوبائی محکموں پر چھاپے مارے، جس پر صوبائی حکومت نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور ایپکس کمیٹی میں بغیر اجازت کے کارروائی نہ کرنے کی یقین دہانی کروائی لیکن اُس کے بعد بھی ایسے واقعات ہوئے جس پر شدید تحفظات پیدا ہوئے۔‘

انھوں نے کہا کہ صوبائی اداروں میں مداخلت کے بارے میں تحفظات کے بعد رینجرز کے مشروط اختیارت سے متعلق قراراداد اسمبلی نے منظور کی۔

فرحت اللہ بابر کے مطابق اٹھارہویں ترمیم کے بعد آئین کی آرٹیکل 147 کے تحت صوبائی حکومت وفاقی اداروں سے مشروط اور غیر مشروط معاونت طلب کر سکتی ہے۔

پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ قانون کے تحت بدعنوانی کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے صوبائی اور وفاقی ادارے موجود ہیں اور کرپشن کا خاتمہ رینجرز کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے۔

’اگر ایسا ہے تو رینجرز پنجاب میں کرپشن کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کرتی؟

حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے سینیٹر مشاہد اللہ خان نے قانونی اور آئینی نکات کے بجائے اس بات پر زور دیا کہ سندھ میں کرپشن کو ختم کون کرے گا؟

انھوں نے کہا کہ ’سندھ میں اینٹی کرپشن کا چیئرمین خود کرپشن کے الزام میں جیل میں ہے۔ دو اہم ترین وزیر بھاگے ہوئے ہیں اُن کے گھروں سے پیسے نکلے ہیں۔ ہوم سیکرٹری اور چیف سیکرٹری ضمانت قبل از گرفتاری پر ہیں۔ ایسی صورتحال میں اگر کوئی کرپشن کر رہا ہے اور کرپشن کی وجہ سے دہشت گردی پروان چڑھ رہی ہے تو رینجرز کے ایکشن پر انھیں خوش ہونا چاہیے۔‘

سینیٹر مشاہد اللہ کا کہنا ہے کہ ’یہ دھمکیاں دیتے ہیں کہ فیڈریش کمزور ہو رہی ہے تو کیا بدعنوان افراد کے خلاف کارروائی سے سندھ حکومت مضبوط نہیں ہو گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سندھ اسمبلی نے ایک قرارداد کے ذریعے رینجرز کے اختیارات مشروط توسیع کی منظوری دی تھی

ایک طرف تو پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ اُن کی خودمختاری کو چیلنج کیا جا رہا ہے تو دوسری جانب رینجرز کے آپریشن کا مرکزِ نگاہ کراچی شہر میں واضح برتری حاصل کرنے والی جماعت متحدہ قومی موومنٹ رینجرز کے اختیارات کے معاملے پر پیپلز پارٹی کے ساتھ نہیں ہے۔

ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار کا کہنا ہے کہ دو سال سے رینجرز جن اختیارات کے ساتھ کارروائیاں کر رہی تھی آخر اُس میں تبدیلی کی وجہ کیا ہے؟

انھوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے مطالبے پر وزیراعلیٰ قائم علی شاہ کی قیادت میں کراچی میں آپریشن شروع ہوا لیکن اب سندھ حکومت چاہتی ہے کہ اس آپریشن کو بھی ’امتیازی‘ بنایا جائے۔

’کچھ لوگوں کو گرفتار کرنے کے لیے رینجرز اجازت طلب کرے اورکچھ کو بھیٹر بکریوں کی طرح پکڑ کر بند کر دیا جائے۔ جب کپتان ہی جانبدار ہو تو آپریشن کے کیا نتائج نکلیں گے۔‘

’ہم کپتان کی کپتانی، متعب رویے،نا انصافیاں، امتیازی سلوک کی وجہ سے عدم اعتماد کرتے ہیں۔ اس آپریشن کی نگرانی کے لیے غیر جانبدار نگران کمیٹی ہو اور اگر ہمیں اختلاف ہو تو ہم کمیٹی میں جائیں گے، سندھ حکومت کو اختلاف ہو تو وہ جائے اور عام آدمی جائے۔ صوابیدی اختیار امتیازی ہوتے ہیں اور اس کے ہم خلاف ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے مفادات اگر متاثر ہوتے ہیں تو اُن کے اختیارات محدود کرنا غلط ہے۔ ’میٹھا میٹھا ھپ ھپ کڑوا کڑواتھوں تھوں‘

ادھر پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ آپریشن کو متنازع نہیں بنانا چاہتے ہیں لیکن جہاں جہاں اختیارات سے تجاوز ہو گا وہ اس کے خلاف عدالت سمیت ہر فورم پر بھرپور احتجاج کریں گے۔

ایم کیو ایم سندھ حکومت کا ساتھ دے گی یا نہیں اس سوال پر فاروق ستار نے کہا کہ ’ہم اس معاملے پر بینادی طور پر پیپلز پارٹی کے خلاف ہیں اور اگر وفاق نے پہلے والے رینجرز کے اختیارات بحال کیے ہیں تو ہم وفاق کے موقف کی تائید کرتے ہیں۔‘

دوسری طرف حکمران جماعت کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کو وفاق سے کوئی خطرہ نہیں ہونا چاہیے۔ اور نہ ہی سندھ میں گورنر راج نہیں لگ رہا۔

پاکستان کے بااثر عسکری ادارے بھی ملک میں ناقص طرز حکمرانی کا گلہ کر رہے ہیں اور ماضی میں انھی عوامل کو جواز بنا کر جمہوریت کا راستہ بند کیا گیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ملک میں جمہوریت کی بقا کے لیے ضروری ہے کہ صوبائی حکومتوں اور وفاق میں ہم آہنگی ہو اور اس کے ساتھ ساتھ جمہوریت کو نقصان پہنچانے والے عناصر کو بھی ختم کیا جائے۔

اسی بارے میں