ڈھاکہ سے پاکستانی سفارت کار کو واپس بلا لیا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ mofa
Image caption فارینہ ارشد کو بنگلہ دیش کی حکومت کی درخواست کے بعد پاکستان واپس بلوایا گیا ہے

پاکستان نے بنگلہ دیش میں تعینات خاتون سفارت کار فارینہ ارشد کو ملک واپس بلوا لیا ہے اور بنگلہ دیش پر زور دیا ہے کہ وہ 1974 کے سہ فریقی معاہدے کے تحت مفاہمت کو آگے بڑھانے کا رویہ اپنائے۔

ڈھاکہ میں بی بی سی کے نامہ نگار ولی الرحمٰن کے مطابق رواں ماہ کے آغاز میں کالعدم جمعیت المجاہدین بنگلہ دیش کے ایک مبینہ رکن ادریس شیخ کی حراست کے بعد پولیس کا یہ بیان سامنے آیا تھا کہ ملزم نے یہ تصدیق کی ہے کہ اسے بیرونی ملک سے فنڈنگ ملتی ہے۔ تاہم بعد ازاں مقامی میڈیا نے غیر ملکی مالی مدد کرنے والے کی شناخت فارینہ ارشد کے نام سے کی جو بنگلہ دیش میں تعینات پاکستانی سفارتی عملے میں بحیثیت سیکنڈ سیکریٹری اپنے فرائض سرانجام دے رہی تھیں۔

’بنگلہ دیش پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے‘

دفترِ خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے جمعرات کو بی بی سی سے گفتگو میں اس خبر کی تصدیق کی کہ ’فارینہ ارشد کو بنگلہ دیش کی حکومت کی درخواست کے بعد پاکستان واپس بلوایا گیا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ وہ اس معاملے پر مزید کوئی معلومات فراہم نہیں کر سکتے تاہم انھوں نے ڈھاکہ میں موجود پاکستانی ہائی کمشن کے تحریری بیان کا حوالہ دیا اور کہا کہ پاکستانی سفارتی اہلکار پر لگائے جانے والے الزامات بے بنیاد ہیں۔

بعد ازاں پاکستانی دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری تحریری بیان میں کہا گیا کہ ’ڈھاکہ میں پاکستانی ہائی کمیشن کی مس فارینہ ارشد کو بنگلہ دیشی حکام کی جانب سے مسلسل ہراساں کیا جا رہا تھا۔‘

پاکستان نے کہا ہے کہ اس نے بنگلہ دیشی ہائی کمشن کو دو بار طلب کرکے فارینہ ارشد کے ساتھ روا رکھےگئے برتاؤ پر احتجاج کیا۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے اپنی سفارتکار کے خلاف بنگلہ دیش کے میڈیا کی خبروں کو مسلسل اور منظم مہم قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس صورتحال کے پیش نظر انھوں نے احتجاج کے بعد اپنی سفارتکار کو واپس بلوانے کا فیصلہ کیا۔

دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ حکومتِ پاکستان ایک بار پھر بنگلہ دیش کی حکومت پر زور دیتی ہے کہ 1974 کے سہ فریقی معاہدے کے تحت مفاہمتی انداز اور آگے بڑھنے کا رویہ اپنائے۔

اس سے قبل ڈھاکہ میں پاکستانی ہائی کمشن نے 16 دسمبر کو اپنے ردِعمل میں مقامی میڈیا پر آنے والی اس خبر کی مذمت کرتے ہوئے سختی سے تردید کی تھی اور اسے بے بنیاد قرار دیا تھا۔

پاکستانی حکام نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس خبر کو خفیہ پولیس برانچ کی جانب سے پریس کے کچھ حصوں میں لِیک کیا گیا جس نے بغیر تصدیق کے اسے شائع کر دیا۔

پاکستانی ہائی کمشن نے اپنےبیان میں یہ بھی شکایت کی کہ میڈیا کی جانب سے پاکستانی خاتون افسر کی تصویر شائع کی گئی اور ان کے کردار پر نازیبا انداز میں بات کی گئی۔ ’یہ ناصرف کردار کشی کا قابلِ نفرت اقدام ہے بلکہ اس نے افسر کی سکیورٹی کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔‘

اسی بارے میں