لاہور ڈیکلریشن کیا تھا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان میں پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کے تاریخی شہر کو آخری مرتبہ سنہ 1999 میں اُس وقت کے بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کی میزبانی کا شرف حاصل ہوا تھا۔

اُس وقت بھی پاکستان میں مسلم لیگ ن کی حکمرانی تھی اور نواز شریف ہی وزیر اعظم اور ان کے بھائی شہباز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب تھے۔

نریندر مودی کی طرح اٹل بہاری واجپائی کا تعلق بھی دائیں بازو کی ہندو جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی سے تھا۔

واجپائی واہگہ بارڈر کے راستے بس کے ذریعے لاہور پہنچے تھے اور انھوں نے 1940 کی قرارداد پاکستان کی یاد میں بنائے جانے والے مینار پاکستان کے تلے کھڑے ہو کر پاکستان کو ایک حقیقت تسلیم کرنے کی بات کی تھی۔

اس موقعے پر 21 فروری کو دونوں ملکوں کے وزیر اعظموں نے ’لاہور ڈیکلریشن‘ پر دستخط کیے تھے۔

16 نکات پر مشتمل یہ ڈیکلریشن دونوں ملکوں کے خوشحال مستقبل، خطے میں امن اور استحکام، دونوں ملکوں کے عوام میں دوستانہ اور برادرانہ تعلقات اور تعاون کے عزم کے اظہار سے شروع ہوا تھا۔

جوہری ہتھیاروں کے بارے میں کہاگیا تھا کہ جوہری صلاحیت دونوں ملکوں پر یہ اہم ذمہ داری عائد کرتی ہے کہ دونوں ملک مسلح تصادم سے بچیں۔

اس معاہدے میں شملہ معاہدے پر مکمل طور پر عملدرآمد کرنے کا اعادہ بھی کیا گیا تھا۔

لاہور ڈیکلریشن میں 28 ستمبر سنہ 1998 کے معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے کہاگیا تھا کہ امن اور استحکام دونوں ملکوں کے عظیم ترین ملکی مفاد میں ہے اور جموں اور کشمیر سمیت تمام مسائل کو حل کرنا اس مقصد کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

اس ڈیکلریشن میں یہ بھی کہاگیا تھا کہ دونوں ملک جموں و کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے کوششیں تیز کر دیں گے۔

اس میں یہ بات بھی کی گئی تھی کہ دونوں ملک ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کریں گے۔