’سوزاک لا علاج مرض بن سکتا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption انگلینڈ میں جنسی مراسم کے نتیجے میں پھیلنے والی بیماریوں میں سوزاک سب سے پہلے نمبر پر ہے

انگلینڈ کے چیف میڈیکل آفیسر ڈیم سیلی ڈیویز کا کہنا ہے کہ سوزاک کے مرض کا لا علاج مرض بننے کا خطرہ موجود ہے۔

سوزاک کے مرض میں اضافے کے بعد ڈیم سیلی کی جانب سے ڈاکٹروں کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کے وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ مریضوں کو صحیح ادویات دی جا رہی ہیں۔

اینٹی بائیوٹک کے خلاف مزاحمت وقت کے ساتھ سنگین سے سنگین تر

مویشیوں میں اینٹی بایوٹکس کے استعمال سے انسانی صحت کو خطرہ

ڈیم سیلی کی جانب سے یہ خط ان اطلاعات کے سامنے آنے کے بعد لکھا گیا ہے جن کے مطابق کچھ مریضوں کو ضرورت کے مطابق ادویات نہیں دی جا رہی ہیں۔

جنسی امراض کے ماہر ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ سوزاک کا مرض تیزی سے ادویات کے خلاف مدافعت پیدا کر رہا ہے۔

رواں برس مارچ میں انگلینڈ میں اس مرض کی ایک ایسی قسم دریافت ہوئی تھی جو ادویات کے خلاف انتہائی مدافعت رکھتی ہے۔

مرض کی اس قسم کے خلاف، علاج کے لیے استعمال کی جانے والی اینٹی بائیوٹکس کار آمد نہیں ہیں۔

ڈیم سیلی نےاپنے خط میں لکھا ہے کہ ’ ادویات کے خلاف مزاحمت بڑھنے سے اندیشہ ہے کہ سوزاک ایک لا علاج مرض بن جائے گا۔‘

خیال رہے کہ انگلینڈ میں جنسی مراسم کے نتیجے میں پھیلنے والی بیماریوں میں سوزاک سب سے پہلے نمبر پر ہے۔

اسی بارے میں