خیبر پختونخوا میں غیر ضروری پروٹوکول پر پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وی آئی پی پروٹوکول پر پابندی کا اعلان عمران خان کراچی میں ایک بچی کی بلاول زرداری کے پروٹوکول کے باعث ہلاکت کے بعد کیا تھا

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں برسر اقتدار تحریک انصاف کی حکومت نے اہم شخصیات کے نقل و حمل کی دوران صوبہ بھر میں پروٹوکول دینے پر پابندی عائد کرتے ہوئے اس ضمن میں باقاعدہ اعلامیہ جاری کر دیا ہے۔

’بلاول بھٹو کے پروٹوکول کے باعث بچی ہلاک‘

صوبائی حکومت کی طرف سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ صوبہ بھر میں اہم شخصیات کی نقل و حمل کے دوران پروٹوکول پر پابندی عائد ہوگی اور اس دوران کوئی سڑک بند کی جائیگی اور نہ ٹریفک کو روکا جائے گا۔ تاہم امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر بعض اہم شخصیات کو سکیورٹی پروٹوکول دینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

اعلامیہ کے مطابق یہ فیصلہ عوام کی سہولت کی خاطر کیا گیا ہے تاکہ انھیں اہم شخصیات کے نقل و حمل کے دوران کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ ہوں۔

اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس ضمن میں صوبائی حکومت نے گورنر، رجسٹرار پشاور ہائی کورٹ، انسپکٹر جنرل آف پولیس سمیت تمام محکموں کے سیکرٹریز اور خود مختار اور نیم خود مختار اداروں کے سربراہوں کو فیصلے سے آگاہ کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ صوبے میں وی آئی پی پروٹوکول پر پابندی کا اعلان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی جانب سے چند دن پہلے اس وقت سامنے آیا تھا جب کراچی میں ایک بچی بسمہ، پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین بلاول زرداری بھٹو اور سندھ کے وزیر اعلی قائم علی شاہ کی گاڑیوں کو پروٹوکول دینے کے دوران ہلاک ہوئی تھی۔

تحریک انصاف کے سربراہ کی طرف سے پہلے بھی غیر ضروری پروٹوکول دینے کے خلاف بیانات سامنے آتے رہے ہیں تاہم اس پر کوئی عمل درآمد نہیں کیا جاسکا۔ یہ پہلی مرتبہ ہے اس ضمن میں باقاعدہ طور پر اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں