کپاس کا بحران جلد ختم نہیں ہو گا

Image caption جب سیزن کے شروع میں فصل آئی تو اس کا ریٹ 1800 سے 2200 روپے لگا جو کہ اس وقت 2000 سے 2900 تک پہنچ چکا ہے

رواں سال کپاس کے بحران پر قابو پانے کے لیے حکومتِ پاکستان اس کی درآمد پر مجبور ہے تاہم کاشتکار حضرات اور اس شعبے میں کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اگر اس بحران کی وجوہات پر قابو نہ پایا جا سکا تو یہ بحران چار سے پانچ برس تک پھیل سکتا ہے۔

حاجی محمد ارشد نے رحیم یار خان میں 170 ایکڑ رقبے پر کپاس کاشت کی مگر اگلے برس کے لیے ان کا ارادہ کپاس کی بجائے گنے کی کاشت کا ہے۔ کیونکہ اس زمین پر پچھلے برس ساڑھے سات ہزار من کپاس پیدا ہوئی مگر اس بار یہ آدھی بھی نہ رہی۔

وہ کہتے ہیں کہ جب سیزن کے شروع میں فصل آئی تو اس کا ریٹ 1800 سے 2200 روپے لگا جو کہ اب 2000 سے 2900 تک پہنچ چکا ہے۔

انھیں شکوہ ہے کہ قیمت کم ہونے کے باعث ’نہ تو زمیندار نے سپرے کیا اور نہ ہی کپاس پر پھل لگا اور جو دوائی ملی وہ بھی دو نمبر تھی۔‘

آل پاکستان ٹیسکٹائل ملز ایسوسی ایشن کے نائب چیئرمین اور چیئرمین کاٹن کمیٹی آصف انعام نے بی بی سی سے گفتگو میں بتایا کہ پچھلے سال پاکستان میں کپاس کی ایک کروڑ 48 لاکھ گانٹھیں پیدا ہوئی تھیں اور 12 لاکھ درآمد کی گئی تھیں۔ یوں ایک کروڑ 60 لاکھ گانٹھیں موجود تھیں مگر اس برس صرف 95 سے 97 لاکھ گانٹھوں کی پیداوار کی توقع ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اس صورتحال میں 60 لاکھ گانٹھوں کی ضرورت ہے جسے بیرونِ ملک سے درآمد کرنا پڑے گا۔

آصف انعام کا کہنا ہے کہ پنجاب کی آدھی فصل تباہ ہوچکی ہے لیکن اربابِ اختیار اس پر توجہ دینے کے لیے سنجیدہ نظر نہیں آتے۔

حکام کے مطابق پنجاب کے بالائی علاقوں میں کاشت کی گئی کپاس کی فصل شدید متاثر ہوئی ہے، اور صرف ستلج اور دریائے سندھ کے زیریں علاقے میں موجود فصل محفوظ رہی ہے۔

Image caption اب تک سامنے آنے والے اعدادوشمار کے مطابق رواں برس سندھ میں کپاس کی چند لاکھ گانھٹوں کا فرق پڑا لیکن پنجاب میں 50 فیصد فصل کم ہوئی ہے

وہ کہتے ہیں کہ یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ بیماری کون سی لگی، وائرس کی نوعیت کیا تھی کیونکہ ایک بار وائرس لگنے کے بعد چار پانچ سال تک فصل خراب رہتی ہے۔

’ہمیں یہ رپورٹ تو ہے کہ کپاس بیماری سے خراب ہوئی ہے تاہم اس بیماری کی نوعیت کیا ہے یہ تو ماہرین ہی بتا سکتے ہیں۔‘

کپاس کی فصل کا تخمینہ لگانے والی وفاقی کمیٹی کے رکن راجہ شعیب بتاتے ہیں کہ کمیٹی نے پہلے ہی بتایا دیا تھا کہ اندازوں اور امیدوں سے کم فصل پیدا ہوگی۔

’چار میٹنگز ہو چکی ہیں اور ہر میٹنگ میں فصل کا سائز کم ہی ہوا۔‘

تاہم وہ کہتے ہیں کہ ہمیں مسئلہ آئندہ سال کا ہے ۔یہ بہت بڑا خدشہ ہے کہ آنے والے سال میں کپاس کی بوائی کا رقبہ کم ہوجائے گا اور دوسرے یہ کہ بیج بھی صحیح نہیں ہے۔

راجہ شعیب بتاتے ہیں کہ سندھ میں چند لاکھ گانھٹوں کا فرق پڑا لیکن پنجاب میں 50 فیصد فصل کم ہوئی ہے۔

وہ سمجھتے ہیں کہ کپاس کی فصل کی خرابی کی وجہ زمیندار کی جانب سے سپرے نہ کیا جانا بھی بنی کیونکہ سیزن کی ابتدا پر ٹیکسٹائل ملز کی جانب سے عالمی منڈی کی نسبت کپاس کا فی من قیمت بہت کم لگائی گئی تھی۔

راجہ شعیب کے مطابق نہ تو حکومت نے مل مالکان سے باز پرس کی اور نہ ہی اس میں خود اتنی سکت تھی کہ وہ براہ راست کسان سے خرید سکتی۔

’وزیرِ خزانہ نے کبھی کسان کی بات ہی نہیں سنی، جب فصل کو سپرے کی ضرورت تھی کسان اس وقت رنجیدہ ہوا اور اس نے کھاد اور سپرے کا استعمال ہی نہیں کیا اور یوں تین ارب ڈالرکا نقصان ہوا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption 90 کی دہائی میں بھی کپاس کی فصل طویل عرصے تک وائرس کے زیرِ اثر رہی تھی

کیا اس سے قبل بھی پاکستان کی اس اہم فصل کو کسی بحران کا سامنا کرنا پڑا؟

اس سوال کے جواب میں آصف انعام نے بتایا کہ 90 کی دہائی میں بھی ایک کڑور 25 لاکھ گانٹھیں پیدا ہوئی تھیں تاہم سنہ 1992 اور 1993 میں یہ فصل آدھی رہ گئی تھی، پھر چار پانچ سال تک یہ وائرس رہا تھا۔‘

آپٹما حکام کا کہنا ہے کہ ’ہمارا اندازہ یہ ہےکہ 30 لاکھ سے زائد گانٹھوں کو درآمد کیا جائے گا اور انڈسٹری اس سے پہلے ہی متاثر ہو چکی ہے۔‘

پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف نے ایک کمیٹی بھی قائم کر دی ہے جو کپاس کے اس بحران سے نمٹنے کے لیے منصوبہ بندی کر رہی ہے، تاہم سوال یہ ہے کہ کیا چند مہینے بعد ہی فصل کی بوائی کے لیے ناراض کسان کو راضی کرنا ممکن ہوسکے گا؟

کیا اگر فصل کسی وائرس کا شکار تھی تو اس کی نوعیت کا پتہ لگائے بغیر کاشت کی جانے والی فصل حکومتی تخمینوں کے مطابق ہوگی یا پھر ایک بار پھر سالانہ بنیادوں پر اربوں کی لاگت سے یہ فصل درآمد کرنا پڑے گی؟

اسی بارے میں