کراچی میں جرم کم ہوئے شدت پسند حملے زیادہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty
Image caption رواں برس دہشت گردی کا آغاز ہی پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنا کر کیا گیا

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں سیاسی اور لسانی بنیادوں پر تصادم اور عام جرائم کی وارداتوں میں کمی آئی ہے، لیکن شدت پسندوں کے حملے سال 2015 میں بھی سکیورٹی اداروں کے لیے کھلا چیلینج رہے۔ اسی سال دولت اسلامیہ کا ظہور ہوا اور شدت پسندوں کے نئے رجحان اور طریقۂ واردات سامنے آئے۔

کراچی میں ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، شدت پسندی اور اغوا برائے تاوان کی روک تھام کے لیے تو آپریشن پہلے سے جاری تھا لیکن رواں سال اس نے نیشنل ایکشن پلان کا لبادہ اوڑھ لیا اور آپریشن کی کمانڈ صوبائی حکومت کے علاوہ فوجی قیادت کے پاس بھی آگئی نتیجے میں پولیس اور رینجرز کے علاوہ فوج کو بھی ٹارگٹ کیا گیا۔

رواں برس دہشت گردی کا آغاز ہی پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنا کر کیا گیا، 27 مارچ کو قائدآباد کے علاقے مرغی خانے کے قریب پولیس اہلکاروں کو بلاول ہاؤس پر لے جانے والی بس پر حملہ کیا گیا، موٹر سائیکل میں نصب بم کے حملے میں دو پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔

24 اپریل کو موٹر سائیکل پر سوار حملہ آوروں نے معروف سماجی کارکن اور سیکنڈ فلور کی ڈائریکٹر سبین محمود کو ڈیفنس کے علاقے میں گولیاں مار کر قتل کردیا جبکہ اُن کی والدہ شدید زخمی ہوئیں۔ سبین بلوچستان سے لاپتہ افراد کے بارے میں ایک مباحثے کے بعد گھر جارہی تھیں کہ یہ حملہ ہوا۔ چند ماہ بعد سبین کے ڈرائیور کو بھی فائرنگ کرکے ہلاک کردیا گیا۔

سبین محمود کے قتل پر اندرون اور بیرون ملک انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید رد عمل کا اظہار کیا پاکستان فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کے ترجمان جنرل عاصم باجوہ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر سبین محمود کے قتل کی مذمت کی اور آگاہ کیا کہ تحقیقاتی اداروں کو ملزمان پکڑنے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ The News
Image caption 24 اپریل کو موٹر سائیکل پر سوار حملہ آوروں نے معروف سماجی کارکن اور سکینڈ فلور کی ڈائریکٹر سبین محمود کو ڈیفنس کے علاقے میں گولیاں مار کر قتل کردیا تھا

یکم مئی کو ایک بار پھر دہشت گردوں نے پولیس افسران کو نشانہ بنایا۔ ٹارگٹ کلرز نے گلشن حدید کے علاقے میں ڈی ایس پی فتح محمد سانگری سمیت تین اہلکاروں کو ہلاک کردیا اس حملے کی ذمہ داری بھی کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی۔ 10 مئی کو نامعلوم حملہ آوروں نے ڈی ایس پی ذوالفقار زیدی کو شاہ فیصل کالونی میں فائرنگ کرکے ہلاک کردیا۔اس نوعیت کے حملوں اور مقابلوں میں رواں سال 82 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔

اسی سال شہر کی تاریخ میں ایک بدترین باب کا اضافہ ہوا، جب 13 مئی کو صفوراں چوک کے قریب شدت پسندوں نے اسماعیلی برادری کی بس میں گھس کر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 45 افراد ہلاک اور 13 زخمی ہوئے۔جائے وقوع سے پولیس کو ’دولت اسلامیہ‘ کے پمفلٹ ملے تھے۔

پولیس نے اس حملے میں طاہر حسین منہاس عرف سائیں عرف نذیر عرف زاہد، سعد عزیز عرف ٹن ٹن عرف جون، محمد اظہر عشرت عرف ماجد اور حافظ ناصر حسین عرف یاسر کو گرفتار کیا، ملزمان نے دوران تفتیش پولیس کو بتایا تھا کہ وہ دولت اسلامیہ سے متاثر تھے اور قیادت کو متاثر کرنے کے لیے انھوں نے بس پر حملہ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سیاسی بنیادوں پر ہلاکتوں کے واقعات میں بڑی حد تک کمی آئی لیکن کچھ ہائی پروفائیل واقعات پیش آئے

پولیس کے مطابق صفوراں واقعے کے ملزمان نے دیگر انکشافات بھی کیے، پولیس کا دعویٰ ہے کہ گرفتار سعد عزیز سماجی کارکن سبین محمود کے قتل میں بھی ملوث ہے جبکہ اسی گروہ نے شہر کے مختلف علاقوں میں داعش کی حمایت میں چاکنگ، گلشن اقبال اور نارتھ ناظم آباد میں بیکن ہاؤس اسکولوں پر دستی بم پھینکنے اور امریکی شہری ڈیبرا لوبو پر فائرنگ کے بھی اعتراف کیے ہیں۔

صفوراں واقعے کے ملزمان کی نشاندھی پر شدت پسندوں کے مالی سہولت کاروں کا بھی نیٹ ورک پکڑا گیا، پولیس نے تاجر شیبا احمد، سلیم احمد، محمد سلیمان سعید، خالد سیف اور عادل مسعود بٹ جیسے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور پروفیشنل ملزمان کو گرفتار کیا جن کا تعلق القاعدہ سے بتایا گیا۔

پولیس نے اپنے موقف کی خود ہی نفی کردی اور کہا کہ بعض ملزمان کی بیگمات پر خواتین کا ایک گروہ سرگرم ہے جس کی ہمدردیاں القاعدہ کی مخالف تنظیم داعش کے ساتھ ہیں اور یہ گروہ خواتین کی ذہن سازی اور چندہ اکٹھا کرنے کے علاوہ شدت پسندوں کی شادیوں کا انتظام کرتا ہے ۔

یاد رہے کہ پاکستان میں اعلیٰ حکومتی سطح پر داعش کی موجودگی کو مسترد کیا جاتا رہا ہے، ایک اعلیٰ پولیس افسر کے مطابق عسکری قیادت اس حقیقت کو جھٹلاتی ہے۔

شہر میں القاعدہ کی بدستور موجودگی کے بھی ثبوت سامنے آئے، 18 اگست کی صبح سیکیورٹی اہلکاروں نے گلشن اقبال میں ایک رہائشی عمارت پر چھاپہ مارا، جہاں مبینہ روپوش شدت پسندوں کی فائرنگ سے خفیہ ادارے کا اسسٹنٹ ڈائریکٹر ہلاک ہوگیا جبکہ جوابی فائرنگ میں دو شدت پسند ہلاک ہوگئے جن کا تعلق القاعدہ سے بتایا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اسی سال شہر کی تاریخ میں ایک بدترین باب کا اضافہ ہوا، جب 13 مئی کو صفوراں چوک کے قریب شدت پسندوں نے اسماعیلی برادری کی بس میں گھس کر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 45 افراد ہلاک ہوئے

سیاسی بنیادوں پر ہلاکتوں کے واقعات میں بڑی حد تک کمی آئی لیکن کچھ ہائی پروفائل واقعات پیش آئے، 19 اگست کو موٹر سائیکل پر سوار حملہ آوروں نے نیوٹاؤن کے علاقے میں ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی رشید گوڈیل کی گاڑی پر فائرنگ کردی جس سے وہ شدید زخمی ہوگئے۔اس حملے کی وجوہات تاحال سامنے نہیں آئیں اور نہ ہی کوئی گرفتاری کی گئی جبکہ سوالات کئی اٹھتے رہے۔

پولیس اور رینجرز کے علاوہ فوج پر بھی حملے کا واقعہ پیش آیا جب یکم دسمبر کو ایم اے جناح روڈ پر تبت سینٹر کے قریب ملٹری پولیس کی گاڑی پر فائرنگ کرکے دو اہلکاروں کو ہلاک کردیا گیا۔

کراچی میں رواں سال 1776 افراد ہلاک ہوئے جن میں 55 فیصد عام شہری جبکہ 96 قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تھے۔ پولیس کے اعداد و شمار مطابق رواں سال 986 افراد کو ہلاک کیا گیا، 1577 پولیس مقابلوں میں 385 ملزمان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا جبکہ 544 مبینہ ڈاکو مارے گئے۔

رینجرز کے مطابق رواں سال انہوں نے 2410 آپریشن کیے جن میں 4047 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا جن میں سے نصف کے قریب پولیس کے حوالے کیے گئے جبکہ دیگر کہاں گئے یہ واضح نہیں کیا گیا۔ ترجمان کے مطابق گرفتار ملزمان میں 887 مبینہ دہشت گرد اور 268 ٹارگٹ کلرز بھی شامل ہیں۔ اسی طرح حملوں میں 12 رینجرز اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ مقابلوں میں 152 ملزمان کو ہلاک کیا گیا۔

اسی بارے میں