’60 دن کی بات ہے، ہمارا موقف انھیں ماننا ہی پڑے گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption ملاقات میں رینجرز کے اختیارات کے تناظر میں صوبے کی سکیورٹی کی مجموعی صورتحال پر بات چیت ہوئی

پاکستان کے صوبہ سندھ کے وزیرِ اعلیٰ قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ وزیرِ اعظم نواز شریف نے انھیں کراچی میں جاری آپریشن کے حوالے سے مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے اور وزیرِ داخلہ کو ایک ہفتے میں کراچی جا کر معاملات طے کرنے کی ہدایت کی ہے۔

قائم علی شاہ نے کراچی میں رینجرز کو دیے گئے خصوصی اختیارات میں توسیع کے معاملے پر وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان تنازع کے تناظر میں بدھ کو وزیرِ اعظم نواز شریف سے ملاقات کی۔

پورس کا حملہ یا بااثر افراد کو بچانے کا حربہ؟

سندھی بریانی کا وفاقی باورچی

اسلام آباد میں وزیرِ اعظم ہاؤس میں ہونے والی اس ملاقات میں وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار، وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کے علاوہ سندھ کے وزیرِ داخلہ سہیل انور سیال اور صوبائی کابینہ کے رکن مراد علی شاہ بھی شریک ہوئے۔

ملاقات کے بعد اسلام آباد میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم سے ان کی کوئی ناراضی نہیں اور نہ ہوگی، وزیرِ اعظم نے انھیں یقین دلایا کہ کراچی میں جاری آپریشن کے’ کپتان‘ وہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ادارے کو مشروط یا غیر مشروط طور پر بلانا صوبے کا اختیار ہے۔

’ہمارا کوئی نکتہ نظر نہیں ہے، صرف آئینی اختیار ہے کی بات ہے، صرف اسے تسلیم کر لیا جائے۔ یہ چند اختیارات کی بات ہے، اس کے علاوہ کوئی اور قدغن نہیں ہے۔‘

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ ’60 دن کی بات ہے، اگر وہ مان گئے تو اچھی بات نہیں تو پھر بات اٹھے گی اور انھیں تسلیم کرنا پڑے گا کیونکہ ہمارا موقف آئین کے مطابق ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ رینجرز کے اختیارات کے بارے میں سندھ اسمبلی میں قرارداد لانے سے قبل انھوں نے ڈی جی رینجرز کو بھی اعتماد میں لیا تھا۔

قائم علی شاہ کے رینجرز کے ڈائریکٹر جنرل کو اختیارات محدود کرنے پر اعتراض نہیں تھا تاہم وہ اس کی مدت میں اضافے کے خواہشمند تھے۔

’ہم نے ان قراردادوں کے آنے سے پہلے ڈی جی رینجرز کو اعتماد میں لیا کہ ہم یہ 60 دن کے لیے کر رہے ہیں اور یہ کچھ شرائط ہیں جو ہم لگا رہے ہیں۔

’تو ڈی جی رینجرز نے یہ بھی کہا کہ آپ ذرا جلدی کر لیں اور بے شک آپ کنڈیشنز کے ساتھ کریں آپ کی مرضی ہے، لیکن آپ تھوڑا وقت بڑھا دیں جو پہلے 120 دن تھا، تو ہم نے کہا یہ ہوتا رہے گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کراچی میں گذشتہ دو برسوں کے دوران رینجرز کی قیادت میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن جاری ہے

رینجرز کے اختیارات کے معاملے پر یہ تنازع اس وقت پیدا ہوا تھا جب وفاقی وزارتِ داخلہ نے رینجرز کے قیام میں توسیع کے بارے میں صوبائی حکومت کی سمری تو منظور کر لی تھی لیکن صوبائی اسمبلی کی طرف سے رینجرز کے اختیارات میں کمی سے متعلق پاس ہونے والی قرارداد مسترد کر دی تھی۔

اس قرارداد کے تحت صوبے میں رینجرز کو ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان اور دہشت گردی کی روک تھام کے لیے کارروائیوں کا اختیار تو دیا گیا تھا لیکن ساتھ ہی انھیں پابند کیا گیا تھا کہ وہ صوبائی حکومت کے کسی بھی دفتر یا کسی ادارے پر چیف سیکریٹری سے پیشگی تحریری اجازت کے بغیر چھاپہ نہیں مار سکیں گے اور نہ ہی وہ پولیس کے علاوہ کسی اور ادارے کی معاونت کریں گے۔

تاہم وفاقی حکومت نے اس مشروط اجازت کو رد کرتے ہوئے رینجرز کے مکمل اختیارات میں مزید دو ماہ کے لیے توسیع کر دی تھی۔

اس اقدام پر سندھ کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا تھا اور اس کے رہنماؤں نے اسے وفاق کی جانب سے سندھ پر ’پورس کے ہاتھیوں کا حملہ‘ قرار دیا تھا۔

وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان اس کشیدگی کے بعد سندھ میں گورنر راج کے نفاذ کی قیاس آرائیاں بھی ہونے لگی تھیں تاہم منگل کو وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا تھا کہ صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کی کوئی تجویز زیر غور نہیں اور رینجرز کے اختیارات کا مسئلہ سیاسی طور پر حل کیا جائے گا۔

اس معاملے میں یہ بات بھی اہم ہے کہ کراچی میں حالیہ بلدیاتی الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے والی جماعت متحدہ قومی موومنٹ رینجرز کے اختیارات کے معاملے پر پیپلز پارٹی کے ساتھ نہیں ہے۔

حال ہی میں سینیٹ میں اپنے بیان میں ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے کہا تھا کہ سندھ حکومت چاہتی ہے کہ اس آپریشن کو بھی ’امتیازی‘ بنایا جائے۔

اسی بارے میں