لائن مین کا مبینہ قاتل فوجی افسر ملٹری پولیس کے حوالے

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مجسٹریٹ نے پولیس کو حکم دیا کہ ملزم کو ملٹری پولیس کے حوالے کر دیا جائے

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں پولیس نے آئیسکو کے اہلکار کو مبینہ طور پر قتل کرنے والے فوجی افسر کو عدالتی حکم پر ملٹری پولیس کے تحویل میں دے دیا ہے۔

پاکستانی فوج کے میجر راجہ زاہد نے مبینہ طور بدھ کو ڈیفینس ہاؤسنگ اتھارٹی فیز ٹو کے علاقے میں اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے اہلکار محبوب احمد کو گولی مار کر قتل کر دیا تھا۔

انھیں جمعرات کو اسلام آباد میں ڈیوٹی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا تو عدالت کا کہنا تھا کہ ملزم چونکہ فوجی اہلکار ہے اس لیے اس کا کورٹ مارشل ہونا چاہیے۔

انھوں نے پولیس کو حکم دیا کہ ملزم کو ملٹری پولیس کے حوالے کر دیا جائے جبکہ میجر زاہد کے ساتھی ملزم منہاج کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا گیا۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سہالہ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کو تو ملٹری پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے تاہم اعلیٰ حکام کی جانب سے اس مقدمے کو فوجی عدالی میں بھیجنے سے متعلق کوئی احکامات تاحال موصول نہیں ہوئے ہیں۔

پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ تاحال دونوں ملزمان سے آلۂ قتل برآمد نہیں کیا جا سکا ہے اور میجر زاہد کے ساتھی کو عدالتی تعطیلات کے خاتمے کے بعد پیر کو پیش کر کے ان کا جسمانی ریمانڈ لیا جائے گا۔

خیال رہے کہ لائن مین کی ہلاکت کی وجہ تین ماہ کے بل کی عدم ادائیگی کی وجہ سے میجر راجہ زاہد کے مکان کی بجلی منقطع کرنے کی کوشش بنی تھی۔

میجر زاہد نے محبوب احمد کو قتل کرنے کے بعد منہاج کی مدد سے ان کی لاش گوجر خان کے علاقے میں ایک ویران جگہ پر دفنا دی تھی۔

اسی بارے میں