پشاور: انسانی سمگلنگ میں ملوث چار ملزمان گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حکام نے بتایا کہ پشاور میں چھاپوں کے دوران چار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے

پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے پشاور میں انسانی سمگلنگ میں ملوث چار ملزمان کو گرفتار کیا ہے جن کے قبضے سے بڑی تعداد میں پاسپورٹ، جہاز کے ٹکٹ اور شناختی کارڈ بھی برآمد ہوئے ہیں۔

ایف آئی اے حکام کے مطابق محکمۂ داخلہ کی جانب سے انسانی سمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔

انسانی سمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا حکم

انسانی سمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی

حکام نے بتایا کہ پشاور میں چھاپوں کے دوران چار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن کے نام فدا حسین، محمد اسحاق، افتخار الحق اور عابد علی شامل ہیں۔ ان چاروں افراد کو پشاور سے گرفتار کیا گیا ہے۔

ان ملزمان کے قبضے سے متعدد پاسپورٹ، شناختی کارڈ، ہوائی جہاز کے ٹکٹ اور غیر قانونی سفری دستاویزات برآمد کی گئی ہیں۔

ایف آئی اے حکام کے مطابق یہ چاروں افراد لوگوں کو خفیہ راستوں سے غیر قانونی طور پر بیرون ملک بھیجنے کے کاروبار میں ملوث ہیں۔

اس کے علاوہ ایف آئی اے نے تخت بھائی سے بھی انسانی سمگلنگ میں مطلوب ملزم محترم شاہ کو گرفتار کیا ہے۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ یہ ایجنٹ لوگوں کو سفری دستاویز پر ایران بھیجتے اور پھر ایران سے غیر قانونی طور پر یہ لوگ خفیہ راستوں کے ذریعے ترکی میں داخل ہوتے۔ ان میں سے بہت سے لوگ راستے میں مارے بھی جاتے رہے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ ترکی سے یہ لوگ یونان اور دیگر یورپی ممالک میں داخل ہوتے ہیں۔

پاکستان کے صوبے پنجاب کے شہرگجرات، گوجرانوالہ اور منڈی بہاؤالدین سے بڑی تعداد میں لوگ غیر قانونی طریقے سے بیرون مملک جانے کی کوششیں کرتے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں بھی ایسے ایجنٹ متحرک ہو چکے ہیں جو لوگوں کو سنہرے خواب دکھا کر غیر قانونی طریقوں سے بیرون ملک بھیجنے کے دھندے میں ملوث ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ قبائلی علاقے کرم ایجنسی سے لوگ غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک جانے کے لیے ان ایجنٹوں کے جھانسے میں آ جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ وزارت داخلہ کی ہدایات پر انسانی سمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف مہم گذشتہ برس نومبر میں شروع کی گئی تھی اور اس عرصے کے دوران حکام کے مطابق 60 سے زیادہ مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔

اسی بارے میں