’پاکستان سے 100 افراد عراق، شام جا چکے ہیں‘

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption حکام کے مطابق دولتِ اسلامیہ کا نیٹ ورک ڈسکہ سے کام کر رہا تھا

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ اب تک کی تحقیقات کے مطابق ملک بھر سے لگ بھگ سو افراد شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ میں شمولیت کے لیے عراق اور شام جا چکے ہیں۔

صوبائی وزیر قانون فیصل آباد میں میڈیا سے بات چیت کر رہے تھے۔

رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ ’دوسرے ملکوں سے دولت اسلامیہ میں شرکت کرنے والے کی تعداد ہزاروں میں ہے جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اب تک کی تحقیقات سے جو معلومات سامنے آئی ہیں ان کے مطابق پاکستان سے اب تک داعش یا دولت اسلامیہ میں شمولیت کے لیے سو کے لگ بھگ افراد شام اور عراق گئے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’سکیورٹی ادارے اس حوالے سے بہت محنت سے کام کر رہے ہیں اور پاکستان یا پنجاب میں اس وبا کو جڑ پکڑنے نہیں دی جائے گی۔‘

وزیرِ قانون کا کہنا تھا کہ ’ڈسکہ سے داعش کے لیے کام کرنے والے گروہ کا تعلق ماضی میں کالعدم جماعت الدعوۃ سے رہا ہے۔ تاہم جماعت الدعوۃ کا کہنا ہے کہ ماضی میں اگر ان کا تعلق ان کی تنظیم سے رہا بھی ہے تو وہ تعلق ختم ہوچکا تھا۔‘

رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ لاہور سے جو تین خواتین شام گئیں ان کا تعلق خواتین کے مدرسے الہدی سے ہے۔

’یہ کوئی نئے لوگ ہیں جن کے ذہنوں میں شدت پسندی پیدا ہوگئی ہے۔شدت پسندی ان کے دماغوں میں پہلے سے موجود تھی اور یہ ماضی میں کسی نہ کسی گروہ یا کالعدم تنظیم کے لیے کام کر رہے تھے اور اب عراق یا شام جانا چاہتے تھے کہ انھیں گرفتار کر لیا گیا۔‘

بین الاقوامی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے پنجاب کے وزیرِ قانون رانا ثنا اللہ کا ایک بیان جاری کیا ہے جس کے مطابق اب تک صوبہ پنجاب سے دولت اسلامیہ سے تعلقات کے شبہے میں 42 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن میں اسلام آباد میں داعش کے مبینہ سربراہ امیر منصور اور ان کے نائب عبداللہ منصوری اور داعش سندھ کے امیر بھی شامل ہیں۔

یہ گرفتاریاں ہفتے اور اتوار کے روز پنجاب کے چار شہروں میں مارے گئے چھاپوں کے نتیجے میں عمل میں لائی گئیں۔ رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے انھیں صوبے میں داعش یا دولت اسلامیہ کے سلیپر سیل بنانے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ چھاپوں کے دوران شدت پسند تنظیم کا پروپیگنڈہ مواد اور اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔

گذشتہ ہفتے صوبہ پنجاب کے شہر ڈسکہ سے داعش کا نیٹ ورک توڑے جانے کے بعد یہ کاروائی عمل میں لائی گئی ہے۔

اسی بارے میں