’سری لنکا میں شوگر ملز لگانا چاہتے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان اور سری لنکا کے درمیان باہمی تجارت کا سالانہ حجم ایک ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے سری لنکا کے ساتھ دفاع اور تجارت سمیت دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا ہے۔

منگل کو سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں نواز شریف نے سری لنکن ہم منصب سے ملاقات کی اور دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے کے لیے مفاہمت کی آٹھ یاداشتوں پر دستخط ہوئے ہیں۔

ان یاداشتوں کے مطابق پاکستان اور سری لنکا کے درمیان صحت، تعلیم، تجارت، سائنس و ٹیکنالوجی اور قیمتی پتھروں کے شعبوں میں تعاون کو بڑھانے پر زور دیا گیا ہے۔

پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کولمبو کے صدارتی محل پہنچے تو اُن کا شاندار استقبال کیا گیا۔

نواز شریف نے اپنے اعزاز میں تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان بہترین تعلقات ہیں لیکن ان تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان باہمی تجارت کا سالانہ حجم ایک ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان اوسطً سالانہ تجارتی حجم 32 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ہے۔

دونوں ملکوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ مشترکہ طور پر منی لانڈرنگ کے خاتمے کے لیے اقدامات کریں گے اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے نیٹ ورک کو بھی ختم کیا جائے گا۔

وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ پاکستانی سرمایہ کار سری لنکا میں سیمنٹ اور شوگر ملز لگانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ جس سے سری لنکا کو فائدہ ہو گا۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے سری لنکا کے ساتھ مشترکہ عسکری مشقوں کو سراہا اور کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان تواتر سے دفاعی مشقیں ہوں اور دفاعی تعاون میں اضافہ ہوا۔

خیال رہے کہ سری لنکا پاکستان سے لڑاکا طیارے جے ایف تھنڈر 17 کی خریداری میں دلچسپی رکھتا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ نواز شریف کے سری لنکا کے دورے کے موقع اس معاملے پر کوئی معاہدہ ہو سکتا ہے لیکن اس حوالے سے سرکاری طور پر کوئی اعلان سامنے نہیں آیا۔

اسی بارے میں