’ خیبر پختونخوا کے اقتصادی راہداری پر تحفظات برقرار‘

تصویر کے کاپی رائٹ Lindsay Brown LPI
Image caption خیبر پختونخوا حکومت کی طرف سے 13 نکات پر مشتمل تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے

پاکستان کی وفاقی حکومت اور صوبہ خیبر پختونخوا کے درمیان پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے پر پائے جانے والے تحفظات پر مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے پشاور میں صوبائی حکومت اور تمام سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں کو راہداری منصوبے کے سلسلے میں بریفنگ دی تاہم وزیراعلیٰ سمیت تمام سیاسی جماعتوں نے عدم اطمینان کا اظہار کر دیا ہے۔

’اقتصادی راہداری کاروٹ تبدیل نہ ہوا نہ ہو گا‘

’راہداری منصوبہ صرف ایک سڑک نہیں‘

پشاور میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان مشتاق غنی نے کہا کہ وفاقی وزیر احسن اقبال نے بدھ کو پشاور کا مختصر دورہ کیا اور وزیراعلیٰ پرویز خٹک سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں کو بریفینگ دی گئی۔

ترجمان مشتاق غنی کے مطابق وفاقی وزیر ان کے تحفظات دور کرنے میں مکمل طورپر ناکام رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ’انھیں سارا دن باتوں میں الجھایا گیا اور ان کے جو تحفظات تھے ان پر بات نہیں کی جا سکی اور نہ وہ مطمئن ہوئے۔‘

صوبائی ترجمان نے کہا کہ بریفنگ میں انھیں بتایا گیا کہ دھرنوں کی وجہ سے پاک چین راہداری منصوبہ تاخیر کا شکار ہوا حالانکہ ان کی طرف سے سوال کیا گیا کہ اس منصوبے کا دھرنے سے کیا تعلق بنتا ہے۔

مشتاق غنی نے کہا کہ صوبائی حکومت اپنے حقوق کےلیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہے۔

انھوں نے کہا کہ وفاق اور صوبائی حکومت نے راہداری منصوبے پر ِخیبر پختونخوا کے تحفظات دورے کرنے کے لیے ایک کمیٹی کا قیام لایا گیا جس میں وفاق اور صوبے کے نمائندے شامل ہیں۔

اس سے پہلے پشاور پریس کلب میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے اس تاثر کو مکمل طور پر غلط قرار دیا کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے سے کسی ایک صوبے کو فائدہ ہوگا جبکہ ملک کی دیگر آکائیاں اس کی ثمرات سے محروم رہیں گی ۔

انھوں نے کہا کہ ان اطلاعات میں کوئی حقیقیت نہیں کہ پاک چین راہداری منصوبے سے کچھ افراد یا چند صوبوں کو فائدہ ہوگا بلکہ یہ منصوبہ ایک قومی منصوبہ ہے جس سے ملک کے تمام صوبے مساوی طور پر مستفید ہوں گے۔

ایک سوال کے جواب میں احسن اقبال نےکہا کہ آل پارٹیز کانفرنس میں راہداری منصوبے کے ضمن تمام صوبوں کی مرضی سے جو فیصلے ہوئے تھے ان پر حکومت مکمل طور پر عمل درآمد کرنے کی پابند ہے اور ان فیصلوں سے کسی صورت انحراف نہیں کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے پر خیبر پختونخوا حکومت کی طرف سے 13 نکات پر مشتمل تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

اس ضمن میں وزیراعلیٰ خیبر پختونِخوا پرویز خٹک کی طرف سے وفاقی حکومت کو ایک خط بھی لکھا گیا ہے جس میں ان نکات پر تفصیلاً بات کی گئی ہے۔ صوبے کے تمام سیاسی جماعتیں بھی صوبائی حکومت کی موقف کی حمایت کر رہی ہے۔

اسی بارے میں