’ملزمان ٹی وی پروگرام میں آتے ہیں، پولیس کو کیوں نہیں ملتے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

کراچی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ڈاکٹر عاصم حسین کے مقدمے کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ مقدمے میں نامزد ملزمان ٹی وی کے پروگراموں میں نظر آتے ہیں لیکن پولیس اپنی رپورٹ میں کہتی ہے کہ وہ نہیں مل رہے ہیں۔

جمعے کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر عاصم حسین کے خلاف دہشت گردی کے مقدمے کی سماعت میں ڈی ایس پی الطاف حسین نے عدالت کو بتایا کہ ایک ملزم معظم خان کو حراست میں لے لیا گیا ہے جو پہلے سے جیل میں قید ہے جبکہ دیگر ملزمان عبدالقادر پٹیل، انیس قائم خانی، سلیم شہزاد اور وسیم اختر کا پتہ نہیں چل رہا۔

ڈاکٹر عاصم 14 روزہ ریمانڈ پر نیب کے حوالے

’بریت کی درخواست رد، دہشت گردی کا مقدمہ‘

جج خالدہ یاسین نے ڈی ایس پی کو مخاطب ہوکر کہا ہے کہ یہ ملزمان ٹی وی ٹاک شوز میں نظر آتے ہیں پولیس روایتی رپورٹ پیش کردیتی ہے کہ ملزمان کا پتہ نہیں چل رہا حالانکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ سیاسی لوگ کہاں رہتے ہیں۔

عدالت نے تفتیشی افسر کی درخواست پر ملزمان کے دوبارہ وارنٹس جاری کیے ہیں۔

پولیس نے اس مقدمے کے 16 گواہوں اور ایک ملزم کے اعترافی بیان کے نقول وکلا کو فراہم کردیں۔

عدالت میں ڈاکٹر عاصم حسین نے شکایت کی کہ ان کے دانت میں تکلیف ہے، جس پر عدالت نے علاج کی سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور سماعت ملتوی کردی۔

یاد رہے کہ ڈاکٹر عاصم حسین پر الزام ہے کہ انھوں نے پولیس اور رینجرز کے ساتھ مقابلوں میں زخمی ہونے والے دہشت گردوں کا اپنے ہسپتال میں علاج کیا تھا۔

انھوں نے کہا تھا کہ دہشت گروں کا علاج عبدالقادر پٹیل، انیس قائم خانی، سلیم شہزاد اور وسیم اختر کے کہنے پر کیا گیا۔

دوسری جانب ایم کیو ایم کے رہنما وسیم اختر اور حیدر عباس رضوی نے فوج کے خلاف اشتعال انگیز تقریر میں سہولت کاری کے مزید 25 مقدمات میں دس دس ہزار رپے کی ضمانت قبل از گرفتار حاصل کر لی ہے۔

اسی بارے میں