راہداری کے منصوبے پر اختلافات ختم کیےجائیں: چین

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اربوں ڈالرز مالیت کا یہ منصوبہ پاکستان اور چین کے درمیان اتفاق رائے کا نتیجہ ہے : چینی سفارت خانہ

چین نے پاکستان سے کہا کہ اقتصادی راہداری کے منصوبے پر تمام حلقوں کے درمیان اختلافات کو بات چیت کے ذریعے ختم کر کے سازگار ماحول پیدا کیا جائے۔

سینچر کو اسلام آباد میں چین کے سفارتخانے کے ترجمان نے امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان کی جماعتیں آپس میں رابطے اور تعلقات مضبوط کرتے ہوئے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبے پر اپنے ختلافات کو ختم کریں گی۔

اقتصادی راہداری، وفاقی حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے کمیٹی کا قیام

کیا اقتصادی راہداری دوسرا کالا باغ ہے؟

پاکستان میں سیاسی جماعتیں چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبے کے روٹ پر حکومت سے متفق نہیں ہیں اور اس بارے میں سیاسی جماعتوں نے آپس میں کئی بار مشاورت بھی کی ہے۔

حال ہی میں صوبے خیبر پختونخوا کی حکومت اور تمام سیاسی جماعتوں نے چین پاکستان راہداری منصوبے میں صوبے کے تحفظات کےحوالے سے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔جو آئندہ چند دنوں میں وزیراعظم نوازشریف سے ملاقات کرکے انھیں صوبے کے خدشات سے آگاہ کرے گی۔

اسلام آباد میں چینی سفارت خانے کے ترجمان نے کہا کہ ’آپس میں رابطے کو بہتر بنا کر باہمی اختلافات ختم کیےجائیں تاکہ منصوبے کی تکمیل کےلیے حالات موزوں ہوں۔‘

سفارت خانے کے ترجمان نے کہا کہ ’دونوں ملکوں کی عوام کے لیے فائدہ مند اقتصادی راہداری کے منصوبوں کی تکمیل کے لیے ہم پاکستانیوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہیں۔‘

ترجمان نے مزید کہا کہ اربوں ڈالرز مالیت کا یہ منصوبہ پاکستان اور چین کے درمیان اتفاق رائے کا نتیجہ ہے اور اسے دونوں ملکوں کی عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC Urdu

چین اور پاکستان نے گذشتہ سال چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کی بنیاد رکھی تھی۔جس کے تحت 46 ارب ڈالر کی لاگت چین کو بذریعہ سٹرک اور ٹرین کے گوادر کی بندرگاہ سے ملایا جائے گا۔