12 وزراء اور پانچ مشیروں پر مشتمل بلوچستان کی نئی کابینہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ن لیگ کے ذرائع کے مطابق دوسرے مرحلے میں پارٹی سے مزید دو اراکین کو بطور صوبائی وزیر شامل کیا جائے گا

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے نئے وزیر اعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری نے صوبائی کابینہ تشکیل دے دی ہے۔

وزیر اعلیٰ کوئی بھی ہو کیا فرق پڑتا ہے؟

عبدالمالک وزیراعلیٰ کے عہدے سے مستعفی

پہلے مرحلے میں کابینہ میں 12 وزراء اور پانچ مشیروں کو شامل کیا گیا ہے کابینہ میں کسی خاتون رکن کو شامل نہیں کیا گیا۔

کابینہ میں شامل کیے جانے والے 12 وزراء کی تقریب حلف برداری گورنر ہاؤس کوئٹہ میں منعقد ہوئی جہاں گورنر محمد خان اچکزئی نے ان سے حلف لیا۔

کابینہ میں جن اراکین کو بطور وزیر شامل کیا گیا ہے ان میں مسلم لیگ (ن) سے نوابزادہ جنگیزمری، میر سرفراز بگٹی اور میر سرفراز ڈومکی شامل ہیں۔

ن لیگ کے ذرائع کے مطابق دوسرے مرحلے میں پارٹی سے مزید دو اراکین کو بطور صوبائی وزیر شامل کیا جائے گا۔

بلوچستان کی مخلوط حکومت میں شامل دوسری بڑی جماعت پشتونخوا ملی عوامی پارٹی سے سردار مصطفیٰ خان ترین، حامد خان اچکزئی، نواب ایاز خان جوگیزئی اور عبد الرحیم زیارتوال کو بطور وزیر لیا گیا۔

تیسری بڑی جماعت نیشنل پارٹی سے جن اراکین کو وزیر کے طور پر لیا گیا ان میں نواب محمد خان شاہوانی، میر رحمت بلوچ، سردار اسلم بزنجو اور میر مجیب الرحمان محمد حسنی شامل ہیں۔

ق لیگ بلوچستان میں ن لیگ کی اتحادی ہے۔ ق لیگ سے شیخ جعفرخان مندوخیل کو وزیر کی حیثیت سے شامل کیا گیا۔

کابینہ میں جن اراکین کو مشیر کے طور پر لیا گیا ہے ان میں نیشنل پارٹی کے میر خالد لانگو، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سردار رضا محمد بڑیچ اور عبیداللہ بابت اور مسلم لیگ (ن) کے سردار در محمد خان ناصر اور محمد خان لہڑی شامل ہیں۔

جن اراکین کو کابینہ میں شامل کیا گیا ہے ان میں در محمد ناصر کے سوا باقی تمام وہی ہیں جو کہ سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر مالک کی کابینہ کا حصہ تھے۔

کابینہ میں ق لیگ سے دوبارہ شیخ جعفر خان مندوخیل کو شامل کرنے پر پارٹی اختلافات سامنے آگئے ہیں۔

پارٹی کے بلوچستان اسمبلی میں بعض اراکین چاہتے تھے کہ کابینہ میں شیخ جعفر مندوخیل شامل نہ ہوں بلکہ کسی اور رکن کو موقع دیا جائے لیکن شیخ جعفر خان مندوخیل نے ان کے اس رائے کو تسلیم نہیں کیا۔

اسی بارے میں