خیبر پختونخوا میں بند صنعتوں کی بحالی کے لیے اقدامات

Image caption خیبر پختونخوا ایوان صنعت و تجارت کے سابق نائب صدر محمد اسحاق نے بتایا کہ صوبے میں کوئی بہتر صنعتی پالیسی نہیں ہے

خیبر پختونخوا میں تشدد کے واقعات کی وجہ سے بڑی تعداد میں صنعتیں بند ہوگئی تھیں اور اب بھی کم سے کم 478 صنعتیں بند ہیں۔

منصوبہ بندی کے صوبائی محکمے کے مطابق بند صنعتوں کی تعداد 1100 تک ہے جس سے ہزاروں مزدور بے روزگار ہوئے ہیں۔

صوبائی حکومت نے اب صنعتوں کی بحالی کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ تاہم صوبے میں بند صنعتوں کے بارے میں فراہم کردہ اعداد و شمار میں تضاد پایا جاتا ہے۔

وزیر اعلیٰ کے صنعتوں کے بارے میں معاون کریم خان کا کہنا ہے کہ اس وقت لگ بھگ 2300 کل رجسٹرڈ صنعتیں ہیں جس میں 478 صنعتیں بند پڑی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان بند صنعتوں کے حوالے سے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

کریم خان نے بتایا ہے کہ نجی سیکٹر میں ’اکنامک زون ڈیویلپمنٹ کمپنی‘ قائم کی گئی ہے جو صنعتوں کے حوالے سے خود فیصلے کرے گی۔

اس کے علاوہ خیبر پختونخوا میں خوشحالی کی واپسی کے حوالے سے سرکاری دستاویز میں کہا گیا ہے کہ سنہ 2007 اور سنہ 2008 کے بعد صوبے میں کوئی 1100 صنعتیں بند ہوئی ہیں۔

صوبائی معاون کریم خان کا کہنا تھا کہ اگر غیر رجسٹرڈ چھوٹی صنعتیں بھی شامل کی جائیں تو صوبے میں کل صنعتوں کی تعداد 12 ہزار کے لگ بھگ ہوتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’صوبے میں پشاور، حطار اور گدون میں نئی صنعتیں قائم کرنے کے لیے درخواستیں موصول ہو رہی ہیں تو یہ تب ہی ہوتا ہے جب لوگوں کو اعتماد ہوتا ہے۔‘

معروف صنعتکار اور خیبر پختونخوا ایوان صنعت و تجارت کے سابق نائب صدر محمد اسحاق نے بتایا کہ صوبے میں کوئی بہتر صنعتی پالیسی نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے صوبے کی 17 صنعتی زونز میں سے صرف پانچ زونز میں بیشتر صنعتیں کام کر رہی ہیں جبکہ دیگر زونز میں کم صنعتیں ہی فعال ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’غازی بروتھا انڈیسٹریل اسٹیٹ تقریباً بند ہے پشاور میں کافی پلاٹ خالی اور ایک سو کے لگ بھگ صنعتیں بند پڑی ہیں اسی طرح نوشہرہ میں بھی یہی صورتحال ہے۔‘

محمد اسحاق نے بی بی سی کوبتایا کہ صرف پشاور کے انڈسٹریل اسٹیٹ میں چند ماہ کےدوران بجلی کے استعمال میں 50 لاکھ یونٹس کم ہوگئے ہیں۔

Image caption منصوبہ بندی کے صوبائی محکمے کے مطابق بند صنعتوں کی تعداد 11 سو تک ہے

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں زیادہ مراعات حاصل ہونے کی وجہ سے صنعتکار افغانستان جا رہے ہیں اور یہاں سے کوئی ایک سو سے زائد پائپ کی صنعتیں افغانستان منتقل ہوگئی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ سنہ 2002 میں بھی حکومت کے اعدا دو شمار یہی تھے کہ چار سو سے زیادہ صنعتیں بند ہوئی ہیں جبکہ سنہ 2008 اور اس کے بعد جب دہشت گردی عروج پر تھی اس وقت کوئی 1600 صنعتیں بند ہوگئی تھیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’خیبر پختونخوا کے علاقے سوات اور بونیر میں اب فوجی آپریشنز کے بعد کاسمیٹکس اور ماربل کی صنعتیں بحال ہوئی ہیں لیکن مجموعی طور پر صنعتوں کی بحالی کی طرف کوئی توجہ نہیں ہے۔‘

صوبائی حکومت کے اس مطالبے پر کہ اقتصادی راہداری کے منصوبے میں خیبر پختونخوا میں اکنامک زون قائم کیے جائیں، صوبائی معاون کریم خان نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے خود پہلے سے ہی ان زونز پر کام شروع کر دیا ہے۔

اسی بارے میں